Showing posts with label عارف شفیق. Show all posts
Showing posts with label عارف شفیق. Show all posts

Sunday, 14 May 2023

ہو گئے جواں بچے بوڑھی ہو رہی ہے ماں

 ماؤں کے عالمی دن پر


ہو گئے جواں بچے، بوڑھی ہو رہی ہے ماں

بے چراغ آنکھوں میں خواب بو رہی ہے ماں

روٹی اپنے حصے کی دے کے اپنے بچوں کو

صبر کی ردا اوڑھے بھوکی سو رہی ہے ماں

دیکھ کر بہو کو، کیا یاد آ گیا اس کو

کن حسین خوابوں میں آج کھو رہی ہے ماں

Wednesday, 26 April 2023

گھر سے چیخیں اٹھ رہی تھیں اور میں جاگا نہ تھا

 گھر سے چیخیں اٹھ رہی تھیں اور میں جاگا نہ تھا 

اتنی گہری نیند تو پہلے کبھی سویا نہ تھا 

نشۂ آوارگی جب کم ہوا تو یہ کھلا 

کوئی بھی رستہ مِرے گھر کی طرف جاتا نہ تھا 

کیا گِلہ اک دوسرے سے بے وفائی کا کریں 

ہم نے ہی اک دوسرے کو ٹھیک سے سمجھا نہ تھا 

Wednesday, 9 February 2022

دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب

 دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب

ان وسوسوں میں میری عبادت بھی ہے فریب

دریا و دشت اور سمندر بھی ہیں سراب

دن کا اجالا رات کی ظلمت بھی ہے فریب

تیرا ہر اک خیال بھی اک خوش نما گمان 

دنیا ہی کیا خود اپنی حقیقت بھی ہے فریب

Tuesday, 17 August 2021

کیا مقدمہ چلے عدالت میں

 کیا مقدمہ چلے عدالت میں

شہر کا شہر ہے حراست میں​

بعد مدت کے دیکھ کر مجھ کو

پڑ گیا آئینہ بھی حیرت میں​

سچ ہے محتاج کب گواہی کا

تم نہ بولو میری وکالت میں

Thursday, 3 September 2020

جب کوئی اہم فیصلہ کرنا

جب کوئی اہم فیصلہ کرنا
اپنے بچوں سے مشورہ کرنا
شعلۂ زیست جب تک نہ بجھے
دیپ بن کر یونہی جلا کرنا
میں نے سیکھا ہے اپنے بچوں سے
سچ کا اظہار برملا کرنا

بے سبب ترک شاعری کر کے

بے سبب ترک شاعری کر کے
کیسے زندہ ہوں خودکشی کر کے
آخر ایک دن مجھے بھی بجھنا ہے
اپنے حصے کی روشنی کر کے
ٹیپو سلطان اب بھی زندہ ہے
کیا ملا تجھ کو مخبری کر کے

Wednesday, 2 September 2020

زمینی کتاب

زمینی کتاب

اب تک آسمانوں سے
زمین پر کتابیں اتری ہیں
میں اس زمین کا شاعر ہوں
میری خواہش ہے کہ
ایک کتاب زمین سے
آسمانوں پر بھی اترے

جو اپنی خواہشوں میں تو نے کچھ کمی کر لی

جو اپنی خواہشوں میں تُو نے کچھ کمی کر لی
تو پھر یہ جان کہ تُو نے پیمبری کر لی
تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا، مگر
تِرے بغیر بسر میں نے زندگی کر لی
پہنچ گیا ہوں میں منزل پہ گردشِ دوراں
ٹھہر بھی جا کہ بہت تو نے رہبری کر لی

Monday, 31 August 2020

جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا

جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا
میں نے اپنے لہجے کو تلوار🗡 کیا
میں نے اپنے پھول سے بچوں کی خاطر
کاغذ کے پھولوں🎕 کا کاروبار کیا
میری محنت کی قیمت کیا دے گا تُو؟
میں نے دشت و صحرا کو گلزار کیا

دیواریں اتنی بھی اونچی نہ کرو

رابطہ

اپنی ذات
اپنے گھر
اپنے مذہب
اپنی تہذیب
اور اپنے قبیلے کی
دیواریں اتنی بھی اونچی نہ کرو

محرومی

محرومی

میں ماں باپ کے ہوتے ہوئے
یتیموں کی طرح
زندگی گزار رہا ہوں
تنہا کھڑا
اس کتیا کو دیکھ رہا ہوں
جو اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہے

ہمیں نزدیک کب دل کی محبت کھینچ لاتی ہے

ہمیں نزدیک کب دل کی محبت کھینچ لاتی ہے؟
تجھے تیری، مجھے میری ضرورت کھینچ لاتی ہے
چھپا ہے جو خزانہ تہہ میں ان بنجر زمینوں کی
اسے باہر زمیں سے میری محنت کھینچ لاتی ہے
میں ماضی کو بھلا کر اپنے مستقبل میں زندہ ہوں
نگاہوں سے ہے جو اوجھل بشارت کھینچ لاتی ہے

Saturday, 14 December 2019

کیسا ماتم کیسا رونا مٹی کا

کیسا ماتم، کیسا رونا مٹی کا
ٹوٹ گیا ہے ایک کھلونا مٹی کا 
مر کر بھی کب اس سے رشتہ ٹوٹے گا
میرا ہونا بھی ہے ہونا مٹی کا 
اک دن مٹی اوڑھ کے مجھ کو سونا ہے
کیا غم جو ہے آج بچھونا مٹی کا

خواب آنکھوں میں سجانا چھوڑ دے

خواب آنکھوں میں سجانا چھوڑ دے
ریت پہ دیوار اٹھانا چھوڑ دے
چھوڑ دے اس بے وفا کی آرزو
پتھروں سے دل لگانا چھوڑ دے
ذہن کہتا ہے زمانے کو بدل
دل یہ کہتا ہے زمانہ چھوڑ دے

آندھیوں میں اک دیا جلتا ہوا رہ جائے گا

آندھیوں میں اک دِیا🪔 جلتا ہوا رہ جائے گا
میں گزر جاؤں گا میرا نقش پا رہ جائے گا
خواہشوں کے سب پرندے شور سے اڑ جائیں گے
تُو کھڑا خاموش یونہی دیکھتا رہ جائے گا
وار کر سکتا تو ہوں میں اپنے دشمن پر، مگر
سوچتا ہوں پھر درمیاں فرق کیا رہ جائے گا

میں کسی قبر کے نشاں جیسا

تُو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا
میں کسی قبر کے نشاں جیسا
میں نے ہر حال میں کیا ہے شکر
اس نے رکھا مجھے جہاں جیسا
ہو گئی وہ بہن بھی اب رخصت
پیار جس نے دیا تھا ماں جیسا