ماؤں کے عالمی دن پر
ہو گئے جواں بچے، بوڑھی ہو رہی ہے ماں
بے چراغ آنکھوں میں خواب بو رہی ہے ماں
روٹی اپنے حصے کی دے کے اپنے بچوں کو
صبر کی ردا اوڑھے بھوکی سو رہی ہے ماں
دیکھ کر بہو کو، کیا یاد آ گیا اس کو
کن حسین خوابوں میں آج کھو رہی ہے ماں
ماؤں کے عالمی دن پر
ہو گئے جواں بچے، بوڑھی ہو رہی ہے ماں
بے چراغ آنکھوں میں خواب بو رہی ہے ماں
روٹی اپنے حصے کی دے کے اپنے بچوں کو
صبر کی ردا اوڑھے بھوکی سو رہی ہے ماں
دیکھ کر بہو کو، کیا یاد آ گیا اس کو
کن حسین خوابوں میں آج کھو رہی ہے ماں
گھر سے چیخیں اٹھ رہی تھیں اور میں جاگا نہ تھا
اتنی گہری نیند تو پہلے کبھی سویا نہ تھا
نشۂ آوارگی جب کم ہوا تو یہ کھلا
کوئی بھی رستہ مِرے گھر کی طرف جاتا نہ تھا
کیا گِلہ اک دوسرے سے بے وفائی کا کریں
ہم نے ہی اک دوسرے کو ٹھیک سے سمجھا نہ تھا
دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب
ان وسوسوں میں میری عبادت بھی ہے فریب
دریا و دشت اور سمندر بھی ہیں سراب
دن کا اجالا رات کی ظلمت بھی ہے فریب
تیرا ہر اک خیال بھی اک خوش نما گمان
دنیا ہی کیا خود اپنی حقیقت بھی ہے فریب
کیا مقدمہ چلے عدالت میں
شہر کا شہر ہے حراست میں
بعد مدت کے دیکھ کر مجھ کو
پڑ گیا آئینہ بھی حیرت میں
سچ ہے محتاج کب گواہی کا
تم نہ بولو میری وکالت میں