کیا مقدمہ چلے عدالت میں
شہر کا شہر ہے حراست میں
بعد مدت کے دیکھ کر مجھ کو
پڑ گیا آئینہ بھی حیرت میں
سچ ہے محتاج کب گواہی کا
تم نہ بولو میری وکالت میں
کتنے حقدار در سے لوٹ گئے
کوئی مصروف تھا عبادت میں
مجھ کو سچ بولنے سے مت روکو
یہ تو شامل ہے میری فطرت میں
مجھ میں کوئی تو آ بسے عارف
کب سے تنہا ہوں اس عمارت میں
عارف شفیق
No comments:
Post a Comment