صراحی مضمحل ہے مے کا پیالہ تھک چکا ہے
درِ ساقی پہ ہر اک آنے والا تھک چکا ہے
اندھیرو! آؤ آ کر تم ہی کچھ آرام دے دو
کہ چلتے چلتے بے چارہ اجالا تھک چکا ہے
عداوت کی دراڑیں ویسی کی ویسی ہیں اب تک
وہ بھرتے بھرتے الفت کا مسالہ تھک چکا ہے
مجھے لُوٹا ضرورت کی یہاں ہر کمپنی نے
مسلسل کرتے کرتے دل کفالت تھک چکا ہے
سخن میں کچھ نئے مجموعہ لے کر آئیے آپ
پرانی شاعری سے ہر رسالہ تھک چکا ہے
بتا اے فیض! آخر گاؤں جا کر کیا کرے گا
تُو جس کے نام کی جپتا تھا مالا تھک چکا ہے
فیض خلیل آبادی
No comments:
Post a Comment