رواں ہے تند بگولوں میں دندناتی ہوئی
اک انتشار کی رو بستیاں بناتی ہوئی
تمدنوں کے تصادم میں بھی رواں ہی رہی
پکڑنے اٹھو تو پھر ہاتھ بھی نہیں آتی
وہ دھندلی سوچ اندھیرے میں سرسراتی ہوئی
کھلے پہاڑوں پہ لوری کی برف جمتی ہوئی
سفید نیند میں ہر چیز کو سلاتی ہوئی
نذیر ناجی
No comments:
Post a Comment