Showing posts with label عاصم سلیم. Show all posts
Showing posts with label عاصم سلیم. Show all posts

Monday, 28 February 2022

مرا محافظ ڈرا ہوا ہے

 مِرا محافظ ڈرا ہوا ہے

سکرپٹ سارا لکھا ہوا ہے

یہ کام اس پر ہی ہو رہا ہے

میں ایک خیمے سے جھانکتا ہوں

اور اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں

مِرا محافظ ڈرا ہوا ہے

Wednesday, 22 December 2021

تم کو تنہا کر سکتا ہوں

 تم کو تنہا کر سکتا ہوں

اب میں ایسا کر سکتا ہوں

اچھا، پیار نہیں کرتے نا

کیا میں جھگڑا کر سکتا ہوں

تم کیوں ایسا سوچ رہی ہو

کیا میں ایسا کر سکتا ہوں

Tuesday, 21 December 2021

گلدستۂ ایمان سے باہر نہیں آئے

 گلدستۂ ایمان سے باہر نہیں آئے

لپٹے رہے زِندان سے، باہر نہیں آئے

ہم دل کے غنی شہرِ محبت کے گداگر

اک دوسری پہچان سے باہر نہیں آئے

کچھ لوگ مِرا حال بتاتے ہوئے بولے

صاحب کبھی نقصان سے باہر نہیں آئے

Monday, 20 December 2021

اب کہاں رائیگاں گزرتی ہے

 اب کہاں رائیگاں گزرتی ہے

اپنے جو درمیاں گزرتی ہے

دھرتی جنت دکھائی دیتی ہے

سامنے سے جو ماں گزرتی ہے

حشر برپا ہی کس لیے ہو گا

ہر قیامت یہاں گزرتی ہے

Sunday, 19 December 2021

مسکراتا ہے تو الجھا کے چلا جاتا ہے

 مسکراتا ہے تو الجھا کے چلا جاتا ہے

پھول کی آنچ سے زخما کے چلا جاتا ہے

عشق مضمون ہی ایسا کہ بے چارہ ناصح

جو سمجھتا ہے وہ سمجھا کے چلا جاتا ہے

آج اک شعر سنائیں گے محبت پہ اسے

بس خیال آتا ہے اور آ کے چلا جاتا ہے

Tuesday, 25 May 2021

صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ سخن چیختا ہے

 صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ سخن چیختا ہے

میں ہوں کشمیر، مِرا سارا بدن چیختا ہے

چیختا ہوں کہ مِری چیخ سنی جائے کہیں

میں اگر چیخ نہ پاؤں تو کفن چیختا ہے

ایسی جنت کہ رواں جس میں ہیں خوں کی نہریں

باغباں چیختے ہیں، سارا چمن چیختا ہے