مِرا محافظ ڈرا ہوا ہے
سکرپٹ سارا لکھا ہوا ہے
یہ کام اس پر ہی ہو رہا ہے
میں ایک خیمے سے جھانکتا ہوں
اور اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں
مِرا محافظ ڈرا ہوا ہے
مِرا محافظ ڈرا ہوا ہے
سکرپٹ سارا لکھا ہوا ہے
یہ کام اس پر ہی ہو رہا ہے
میں ایک خیمے سے جھانکتا ہوں
اور اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں
مِرا محافظ ڈرا ہوا ہے
تم کو تنہا کر سکتا ہوں
اب میں ایسا کر سکتا ہوں
اچھا، پیار نہیں کرتے نا
کیا میں جھگڑا کر سکتا ہوں
تم کیوں ایسا سوچ رہی ہو
کیا میں ایسا کر سکتا ہوں
گلدستۂ ایمان سے باہر نہیں آئے
لپٹے رہے زِندان سے، باہر نہیں آئے
ہم دل کے غنی شہرِ محبت کے گداگر
اک دوسری پہچان سے باہر نہیں آئے
کچھ لوگ مِرا حال بتاتے ہوئے بولے
صاحب کبھی نقصان سے باہر نہیں آئے
اب کہاں رائیگاں گزرتی ہے
اپنے جو درمیاں گزرتی ہے
دھرتی جنت دکھائی دیتی ہے
سامنے سے جو ماں گزرتی ہے
حشر برپا ہی کس لیے ہو گا
ہر قیامت یہاں گزرتی ہے
مسکراتا ہے تو الجھا کے چلا جاتا ہے
پھول کی آنچ سے زخما کے چلا جاتا ہے
عشق مضمون ہی ایسا کہ بے چارہ ناصح
جو سمجھتا ہے وہ سمجھا کے چلا جاتا ہے
آج اک شعر سنائیں گے محبت پہ اسے
بس خیال آتا ہے اور آ کے چلا جاتا ہے
صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ سخن چیختا ہے
میں ہوں کشمیر، مِرا سارا بدن چیختا ہے
چیختا ہوں کہ مِری چیخ سنی جائے کہیں
میں اگر چیخ نہ پاؤں تو کفن چیختا ہے
ایسی جنت کہ رواں جس میں ہیں خوں کی نہریں
باغباں چیختے ہیں، سارا چمن چیختا ہے