Sunday, 19 December 2021

مسکراتا ہے تو الجھا کے چلا جاتا ہے

 مسکراتا ہے تو الجھا کے چلا جاتا ہے

پھول کی آنچ سے زخما کے چلا جاتا ہے

عشق مضمون ہی ایسا کہ بے چارہ ناصح

جو سمجھتا ہے وہ سمجھا کے چلا جاتا ہے

آج اک شعر سنائیں گے محبت پہ اسے

بس خیال آتا ہے اور آ کے چلا جاتا ہے

روز آتا ہے مداری نیا کرتب کر کے

اک تماشائی کہ شرما کے چلا جاتا ہے

ایک پرندہ ہے جو اڑتا بھی نہیں ہے لیکن

ہر شکاری اسے ٹھکرا کے چلا جاتا ہے

جھوٹ پر جھوٹ سمجھتے ہیں اسے گاؤں کے لوگ

شیر آتا ہے، مجھے کھا کے چلا جاتا ہے


عاصم سلیم

No comments:

Post a Comment