مسکراتا ہے تو الجھا کے چلا جاتا ہے
پھول کی آنچ سے زخما کے چلا جاتا ہے
عشق مضمون ہی ایسا کہ بے چارہ ناصح
جو سمجھتا ہے وہ سمجھا کے چلا جاتا ہے
آج اک شعر سنائیں گے محبت پہ اسے
بس خیال آتا ہے اور آ کے چلا جاتا ہے
روز آتا ہے مداری نیا کرتب کر کے
اک تماشائی کہ شرما کے چلا جاتا ہے
ایک پرندہ ہے جو اڑتا بھی نہیں ہے لیکن
ہر شکاری اسے ٹھکرا کے چلا جاتا ہے
جھوٹ پر جھوٹ سمجھتے ہیں اسے گاؤں کے لوگ
شیر آتا ہے، مجھے کھا کے چلا جاتا ہے
عاصم سلیم
No comments:
Post a Comment