Showing posts with label یاور وارثی. Show all posts
Showing posts with label یاور وارثی. Show all posts

Thursday, 13 March 2025

ہیں منتظر آنکھیں کوئی اک خواب تو آئے

 ہیں منتظر آنکھیں کوئی اک خواب تو آئے

ساحل نہیں آتا ہے تو گرداب تو آئے

صحرا کے خد و خال سے کھیلوں میں کہاں تک 

رستے میں کوئی خطہ شاداب تو آئے

کیا فکر جو پیکر سے وہ مہتاب نہیں ہے

پہنے ہوئے پیراہن مہتاب تو آئے

Saturday, 24 August 2024

حرف سوئے لب اظہار نکل ہی آیا

 حرف سوئے لب اظہار نکل ہی آیا

خانۂ قید سے عیّار نکل ہی آیا

دستکوں میں وہی انداز تھا وقفہ تھا وہی

حلقۂ درد سے بیمار نکل ہی آیا

پوچھنے آیا ہے وہ آخری خواہش میری

آخرش موقعۂ اظہار نکل ہی آیا

Wednesday, 24 March 2021

ہم آئے جب تو بجھا کر چراغ در آئے

ہم آئے جب تو بُجھا کر چراغِ در آئے 

کہ اور کوئی نہ تنہائیوں کے گھر آئے 

اُبھارنے کے لیے نقشِ کوزہ گر آئے 

تُو خود ہی اُڑ کے مِری خاکِ چاک پر آئے 

جہاں جہاں بھی اندھیروں کی حکمرانی تھی 

چراغِ نقشِ قدم ہم جلا کے دھر آئے 

Thursday, 17 December 2020

حریف آئے تو اس کا بھی گھر نکالا جائے

حریف آئے تو اس کا بھی گھر نکالا جائے

شکارگاہ سے اب کے نہ سر نکالا جائے

شکستِ فاش کا طوفان سر پہ آ پہنچا

بِساط کا ہے تقاضا کہ گھر نکالا جائے

زبان وقت کو دی جائے اک نئی لذت

زمین سے ثمر بے شجر نکالا جائے