ہیں منتظر آنکھیں کوئی اک خواب تو آئے
ساحل نہیں آتا ہے تو گرداب تو آئے
صحرا کے خد و خال سے کھیلوں میں کہاں تک
رستے میں کوئی خطہ شاداب تو آئے
کیا فکر جو پیکر سے وہ مہتاب نہیں ہے
پہنے ہوئے پیراہن مہتاب تو آئے
ہیں منتظر آنکھیں کوئی اک خواب تو آئے
ساحل نہیں آتا ہے تو گرداب تو آئے
صحرا کے خد و خال سے کھیلوں میں کہاں تک
رستے میں کوئی خطہ شاداب تو آئے
کیا فکر جو پیکر سے وہ مہتاب نہیں ہے
پہنے ہوئے پیراہن مہتاب تو آئے
حرف سوئے لب اظہار نکل ہی آیا
خانۂ قید سے عیّار نکل ہی آیا
دستکوں میں وہی انداز تھا وقفہ تھا وہی
حلقۂ درد سے بیمار نکل ہی آیا
پوچھنے آیا ہے وہ آخری خواہش میری
آخرش موقعۂ اظہار نکل ہی آیا
ہم آئے جب تو بُجھا کر چراغِ در آئے
کہ اور کوئی نہ تنہائیوں کے گھر آئے
اُبھارنے کے لیے نقشِ کوزہ گر آئے
تُو خود ہی اُڑ کے مِری خاکِ چاک پر آئے
جہاں جہاں بھی اندھیروں کی حکمرانی تھی
چراغِ نقشِ قدم ہم جلا کے دھر آئے
حریف آئے تو اس کا بھی گھر نکالا جائے
شکارگاہ سے اب کے نہ سر نکالا جائے
شکستِ فاش کا طوفان سر پہ آ پہنچا
بِساط کا ہے تقاضا کہ گھر نکالا جائے
زبان وقت کو دی جائے اک نئی لذت
زمین سے ثمر بے شجر نکالا جائے