گھر کے آنگن میں جو دیوار اٹھا دیتے ہیں
وہ، مسلسل کسی فتنے کو ہوا دیتے ہیں
سُرخ، پتھر کی حویلی سے نسب ملتا ہے
ہم محبت کی ہری شاخ، جلا دیتے ہیں
گو، کہ معلوم ہے فرعون صفت ہو پھر بھی
چل تِِرے ہاتھ میں موسیٰ کا عصا دیتے ہیں
گھر کے آنگن میں جو دیوار اٹھا دیتے ہیں
وہ، مسلسل کسی فتنے کو ہوا دیتے ہیں
سُرخ، پتھر کی حویلی سے نسب ملتا ہے
ہم محبت کی ہری شاخ، جلا دیتے ہیں
گو، کہ معلوم ہے فرعون صفت ہو پھر بھی
چل تِِرے ہاتھ میں موسیٰ کا عصا دیتے ہیں
پال رکھتے ہیں کئی روگ پرانے والے
ہجر کو ڈوبتے سورج سے ملانے والے
حال کس حال میں لکھتے ہیں تجھے علم کہاں
بِن پڑھے خط کے تراشے کو جلانے والے
ہم نے امیدِ ملاقات پہ کاٹا جیون
مڑ کے آئے ہی نہیں ہاتھ چھڑانے والے
یہ سچ ہے اُس کا رنج میں چہرہ عجیب تھا
ہنستے ہوئے مگر وہ زیادہ عجیب تھا
مجھ پر اُسے یقیں ہُوا تاخیر سے تو کیا
پہلے پہل سبھی کا عقیدہ عجیب تھا
برسوں پُرانا زخم بھی لمحوں میں بھر گیا
اُس دلفریب شخص کا بوسہ عجیب تھا
بُو جو آئی ہمیں اُس سے شبِ تنہائی کی
اجنبی شخص سے پھر خُوب شناسائی کی
ہاتھ لگتے ہی مسیحا کا بہت زخم جلے
یہ تو سوغات ہے دِکھتی کسی ہرجائی کی
غیر شامل نہ کِیا درد میں اپنے اُس نے
آپ ہی دل نے سبھی رات مسیحائی کی
روگ طُرفہ سا لگا ہے کہ تلافی بھی نہیں
چین پڑتا ہی نہیں دل کو، اُداسی بھی نہیں
سخت مُشکل ہے، نِبھانی ہے اُسی ایک سے ہی
میری وحشت کو تو اک شخص وہ کافی بھی نہیں
میں نے صُبحوں کے اُجالے نہیں دیکھے اب تک
میرے حصے میں تو شاموں کی سیاہی بھی نہیں