Showing posts with label رمیکا منال. Show all posts
Showing posts with label رمیکا منال. Show all posts

Monday, 18 March 2024

گھر کے آنگن میں جو دیوار اٹھا دیتے ہیں

 گھر کے آنگن میں جو دیوار اٹھا دیتے ہیں

وہ، مسلسل کسی فتنے کو ہوا دیتے ہیں

سُرخ، پتھر کی حویلی سے نسب ملتا ہے

 ہم محبت کی ہری شاخ، جلا دیتے ہیں

گو، کہ معلوم ہے فرعون صفت ہو پھر بھی

چل تِِرے ہاتھ میں موسیٰ کا عصا دیتے ہیں

Tuesday, 13 February 2024

پال رکھتے ہیں کئی روگ پرانے والے

 پال رکھتے ہیں کئی روگ پرانے والے 

ہجر کو ڈوبتے سورج سے ملانے والے

حال کس حال میں لکھتے ہیں تجھے علم کہاں 

بِن پڑھے خط کے تراشے کو جلانے والے 

ہم نے امیدِ ملاقات پہ کاٹا جیون 

مڑ کے آئے ہی نہیں ہاتھ چھڑانے والے 

Thursday, 11 January 2024

یہ سچ ہے اس کا رنج میں چہرہ عجیب تھا

 یہ سچ ہے اُس کا رنج میں چہرہ عجیب تھا 

ہنستے ہوئے مگر وہ زیادہ عجیب تھا 

مجھ پر اُسے یقیں ہُوا تاخیر سے تو کیا

پہلے پہل سبھی کا عقیدہ عجیب تھا 

برسوں پُرانا زخم بھی لمحوں میں بھر گیا 

اُس دلفریب شخص کا بوسہ عجیب تھا 

Tuesday, 21 December 2021

بو جو آئی ہمیں اس سے شب تنہائی کی

بُو جو آئی ہمیں اُس سے شبِ تنہائی کی

اجنبی شخص سے پھر خُوب شناسائی کی

ہاتھ لگتے ہی مسیحا کا بہت زخم جلے

یہ تو سوغات ہے دِکھتی کسی ہرجائی کی

غیر شامل نہ کِیا درد میں اپنے اُس نے 

آپ ہی دل نے سبھی رات مسیحائی کی

Sunday, 28 November 2021

روگ طرفہ سا لگا ہے کہ تلافی بھی نہیں

روگ طُرفہ سا لگا ہے کہ تلافی بھی نہیں

چین پڑتا ہی نہیں دل کو، اُداسی بھی نہیں

سخت مُشکل ہے، نِبھانی ہے اُسی ایک سے ہی

میری وحشت کو تو اک شخص وہ کافی بھی نہیں

میں نے صُبحوں کے اُجالے نہیں دیکھے اب تک

میرے حصے میں تو شاموں کی سیاہی بھی نہیں