بُو جو آئی ہمیں اُس سے شبِ تنہائی کی
اجنبی شخص سے پھر خُوب شناسائی کی
ہاتھ لگتے ہی مسیحا کا بہت زخم جلے
یہ تو سوغات ہے دِکھتی کسی ہرجائی کی
غیر شامل نہ کِیا درد میں اپنے اُس نے
آپ ہی دل نے سبھی رات مسیحائی کی
بعد اِس کے جو کہانی ہے وہ جانے کیسے
رمز احمق پہ تو کُھلتی نہیں انگڑائی کی
وقف مُفلس کے لیے کر دیا کاسہ اپنا
اک گداگر نے جو شاہ کی تھی رُسوائی کی
راہ کے ساتھ سفر کرتی رہی آنکھ مِری
بس تِری آس میں ہر رُت کی پذیرائی کی
رمیکا منال
No comments:
Post a Comment