💢یہ کیسا قافلہ سالار، یاں رکھا گیا ہے
سروں پر سب ہی کے بارِ گراں رکھا گیا ہے
انہی پاٹوں کے بیچوں بیچ پِس جانا ہے ہم نے
زمیں پیروں میں، سر پر آسماں رکھا گیا ہے
دلوں میں فاصلہ رکھنا کسی کی مصلحت تھی
سو دانستہ ہمیں کچھ بد گماں رکھا گیا ہے
زمیں کم پڑ گئی ہے، یا بلندی کا جنوں ہے
جدھر دیکھیں مکاں اوپر مکاں رکھا گیا ہے
مکاں دل کا نہ کھولا، بس نگاہوں ہی میں رولا
کہاں رکھنا تھا ہم کو، اور کہاں رکھا گیا ہے
دلوں میں دُوریاں بڑھنے کا باعث بن رہا ہے
یہ جو ثالث ہمارے درمیاں رکھا گیا ہے
خِرد کے چپوؤں ہی پر نہ چھوڑی دل کی ناؤ
جنوں کو بھی بطورِ بادباں رکھا گیا ہے
یہ مارِ آستین اک دن تجھے ڈس لے گا سورج
جہاں رکھنا نہ تھا اس کو، وہاں رکھا گیا ہے
صدیق سورج
No comments:
Post a Comment