Showing posts with label احمد عبداللہ. Show all posts
Showing posts with label احمد عبداللہ. Show all posts

Sunday, 12 November 2023

غمگین مناظر کے طلبگار مجھے دیکھ

 غمگین مناظر کے طلبگار مجھے دیکھ 

تیرے لیے ہوتا ہوں میں تیار مجھے دیکھ 

معمار ہی تکتا نہیں تعمیر کی جانب 

تعمیر تو کہتی ہے کہ؛ معمار مجھے دیکھ 

بینائی گھٹا دیتی ہیں سورج کی شعائیں 

اور تُو ہے جو کہتا ہے؛ لگاتار مجھے دیکھ 

Tuesday, 27 June 2023

اب بھی دلکش ہے خدوخال سنا ہے میں نے

 اب بھی دلکش ہے خد و خال سُنا ہے میں نے

خیر دیکھا نہیں، فی الحال سنا ہے میں 

ایک ہی شخص کو چاہا ہے بڑی مُدت تک 

ایک ہی گیت کئی سال سنا ہے میں 

خون کے رنگ میں ترمیم تو ہو سکتی ہے

اشک کا رنگ فقط لال سنا ہے میں نے

Thursday, 15 June 2023

یوں تو ہر سمت امداد کے بازار کھلے

 یوں تو ہر سمت امداد کے بازار کُھلے

تیرے آگے ہی مگر دستِ گنہگار کھلے

آپ نے جُرم کیا، آپ کا سر کاٹیں گے 

آپ نے عشق کیا، آپ کی دستار کھلے 

ہو بھی سکتا ہے جُدا عشق و ہوس کا انجام

ہو بھی سکتا ہے یہ دروازہ بھی اُس پار کھلے

Saturday, 10 June 2023

کر رہے ہیں سب ادب سب ٹھیک ہے

 کر رہے ہیں سب ادب، سب ٹھیک ہے

اور وہ بھی بے سبب، سب ٹھیک ہے

پوچھنا تھا واقعی سب ٹھیک تھا؟

کہہ رہے تھے آپ جب سب ٹھیک ہے

سوچو دریا حال پوچھے ایک دن 

اور کہہ دیں تشنہ لب؛ سب ٹھیک ہے

Tuesday, 6 June 2023

مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا ہے

 مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا ہے 

صیّاد نشیمن کا پتہ جان گیا ہے

یعنی جسے دیمک لگی جاتی تھی وہ میں تھا

اب آ کے مرا میری طرف دھیان گیا ہے 

شیشے میں بھلے اس نے مری نقل اتاری 

خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا ہے

Friday, 4 March 2022

ہماری گلی میں وہ صورت نہیں ہے

ہماری گلی میں وہ صورت نہیں ہے

یہ آفت نہیں ہے، قیامت نہیں ہے؟

مِرے دل جو سب سے قریبی تھے تیرے

تجھے ان کے جانے پہ حیرت نہیں ہے؟

بڑے آدمی ہم بھی بن جاتے، لیکن

ہمیں تیرے غم سے ہی فرصت نہیں ہے