غمگین مناظر کے طلبگار مجھے دیکھ
تیرے لیے ہوتا ہوں میں تیار مجھے دیکھ
معمار ہی تکتا نہیں تعمیر کی جانب
تعمیر تو کہتی ہے کہ؛ معمار مجھے دیکھ
بینائی گھٹا دیتی ہیں سورج کی شعائیں
اور تُو ہے جو کہتا ہے؛ لگاتار مجھے دیکھ
غمگین مناظر کے طلبگار مجھے دیکھ
تیرے لیے ہوتا ہوں میں تیار مجھے دیکھ
معمار ہی تکتا نہیں تعمیر کی جانب
تعمیر تو کہتی ہے کہ؛ معمار مجھے دیکھ
بینائی گھٹا دیتی ہیں سورج کی شعائیں
اور تُو ہے جو کہتا ہے؛ لگاتار مجھے دیکھ
اب بھی دلکش ہے خد و خال سُنا ہے میں نے
خیر دیکھا نہیں، فی الحال سنا ہے میں
ایک ہی شخص کو چاہا ہے بڑی مُدت تک
ایک ہی گیت کئی سال سنا ہے میں
خون کے رنگ میں ترمیم تو ہو سکتی ہے
اشک کا رنگ فقط لال سنا ہے میں نے
یوں تو ہر سمت امداد کے بازار کُھلے
تیرے آگے ہی مگر دستِ گنہگار کھلے
آپ نے جُرم کیا، آپ کا سر کاٹیں گے
آپ نے عشق کیا، آپ کی دستار کھلے
ہو بھی سکتا ہے جُدا عشق و ہوس کا انجام
ہو بھی سکتا ہے یہ دروازہ بھی اُس پار کھلے
کر رہے ہیں سب ادب، سب ٹھیک ہے
اور وہ بھی بے سبب، سب ٹھیک ہے
پوچھنا تھا واقعی سب ٹھیک تھا؟
کہہ رہے تھے آپ جب سب ٹھیک ہے
سوچو دریا حال پوچھے ایک دن
اور کہہ دیں تشنہ لب؛ سب ٹھیک ہے
مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا ہے
صیّاد نشیمن کا پتہ جان گیا ہے
یعنی جسے دیمک لگی جاتی تھی وہ میں تھا
اب آ کے مرا میری طرف دھیان گیا ہے
شیشے میں بھلے اس نے مری نقل اتاری
خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا ہے
ہماری گلی میں وہ صورت نہیں ہے
یہ آفت نہیں ہے، قیامت نہیں ہے؟
مِرے دل جو سب سے قریبی تھے تیرے
تجھے ان کے جانے پہ حیرت نہیں ہے؟
بڑے آدمی ہم بھی بن جاتے، لیکن
ہمیں تیرے غم سے ہی فرصت نہیں ہے