اے حکومت چاہیے ہم پر بھی تجھ کو اعتماد
ہم کبھی دنیا میں ہو سکتے نہیں وجہِ فساد
اپنی ملت پر کریں گے اپنی جانوں کو نثار
اپنی جانبازی کی دکھلانا ہے ہم کو بھی بہار
ہم نہیں ہیں وہ کہ آئینِ رضا کو چھوڑ دیں
جب پڑے کوئی مصیبت تو وفا کو چھوڑ دیں
اے حکومت چاہیے ہم پر بھی تجھ کو اعتماد
ہم کبھی دنیا میں ہو سکتے نہیں وجہِ فساد
اپنی ملت پر کریں گے اپنی جانوں کو نثار
اپنی جانبازی کی دکھلانا ہے ہم کو بھی بہار
ہم نہیں ہیں وہ کہ آئینِ رضا کو چھوڑ دیں
جب پڑے کوئی مصیبت تو وفا کو چھوڑ دیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قیامت تک رہے گردش میں پیمانہ محمدﷺ کا
عجب مے خانہ ہے یا رب یہ میخانہ محمدﷺ کا
نہ تھکتا ہے وفاؤں سے نہ ڈرتا ہے جفاؤں سے
مذاقِ عام سے عاشق ہے بے گانہ محمدﷺ کا
الٹ دیں جس نے دم بھر میں صفیں ایران و روما کی
کبھی ایسا بھی تھا ایک ایک دیوانہ محمدﷺ کا
شاعر کا دل
آ ہوشں میں او طعنہ زن، کھول آنکھ او ہمت شکن
ہر بات پر حملے ہیں کیوں ہر وقت کیوں ہے خندہ زن
کیا جانے تو اے بے خبر، شاعر کا انداز سخن
رکھتا ہے تو سطحی نظر، وہ اپنی دھن میں ہے مگن
ہے تیری حدِ فکر سے کچھ ماسوا شاعر کا دل
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نا خدا وہ اپنی کشتی کا اگر ہو جائے گا
طے بہ آسانی محبت کا سفر ہو جائے گا
دل سے جو بھی پیرو خیر البشر ہو جائے گا
وہ زمین و آسماں کا تاج سر ہو جائے گا
جلوۂ احمدﷺ کا نظارہ اگر ہو جائے گا
دیکھنے والا عزیز ہر نظر ہو جائے گا