Showing posts with label محوی صدیقی. Show all posts
Showing posts with label محوی صدیقی. Show all posts

Saturday, 28 March 2026

اے حکومت چاہیے ہم پر بھی تجھ کو اعتماد

 اے حکومت چاہیے ہم پر بھی تجھ کو اعتماد

ہم کبھی دنیا میں ہو سکتے نہیں وجہِ فساد

اپنی ملت پر کریں گے اپنی جانوں کو نثار

اپنی جانبازی کی دکھلانا ہے ہم کو بھی بہار

ہم نہیں ہیں وہ کہ آئینِ رضا کو چھوڑ دیں

جب پڑے کوئی مصیبت تو وفا کو چھوڑ دیں

Friday, 20 June 2025

قیامت تک رہے گردش میں پیمانہ محمد کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قیامت تک رہے گردش میں پیمانہ محمدﷺ کا

عجب مے خانہ ہے یا رب یہ میخانہ محمدﷺ کا

نہ تھکتا ہے وفاؤں سے نہ ڈرتا ہے جفاؤں سے

مذاقِ عام سے عاشق ہے بے گانہ محمدﷺ کا

الٹ دیں جس نے دم بھر میں صفیں ایران و روما کی

کبھی ایسا بھی تھا ایک ایک دیوانہ محمدﷺ کا

Thursday, 19 June 2025

رکھتا ہے پنہاں ایک درد لا دوا شاعر کا دل

 شاعر کا دل


آ ہوشں میں او طعنہ زن، کھول آنکھ او ہمت شکن

ہر بات پر حملے ہیں کیوں ہر وقت کیوں ہے خندہ زن

کیا جانے تو اے بے خبر، شاعر کا انداز سخن

رکھتا ہے تو سطحی نظر، وہ اپنی دھن میں ہے مگن

ہے تیری حدِ فکر سے کچھ ماسوا شاعر کا دل

Wednesday, 13 July 2022

ناخدا وہ اپنی کشتی کا اگر ہو جائے گا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نا خدا وہ اپنی کشتی کا اگر ہو جائے گا

طے بہ آسانی محبت کا سفر ہو جائے گا

دل سے جو بھی پیرو خیر البشر ہو جائے گا

وہ زمین و آسماں کا تاج سر ہو جائے گا

جلوۂ احمدﷺ کا نظارہ اگر ہو جائے گا

دیکھنے والا عزیز ہر نظر ہو جائے گا