اگرچہ سخت سفر ہے دُھواں گھنا ہو گا
کہیں کوئی تو مِری راہ دیکھتا ہو گا
تمام ہوتا کہاں ہے کبھی ندی کا سفر
وہ جا مِلے تو سمندر بھی راستہ ہو گا
عذاب آئے، سِتم آئے، سانحہ آئے
میں مُنتظر ہوں کہ کچھ زیست میں نیا ہو گا
میں مر گیا تو مِری بُزدلی خبر ہو گی
میں جی گیا تو تِرا شکریہ ادا ہو گا
سِتارے ٹانک رہا ہے جو خواب میں سب کے
وہ سُرخیوں سے خبر کی ہی لاپتہ ہو گا
وہ جس نے ہم کو بھُلاوے سی زندگی دی ہے
ضرور اس نے کوئی راستہ دیا ہو گا
دھرو نرائن گپت
Dhruv Narain Gupt
No comments:
Post a Comment