کوئی بھی ہنستا ہوا پھر نظر نہیں آیا
گیا وہ جب سے یہاں لوٹ کر نہیں آیا
تم اپنے آپ کو الفت شناس کہتے ہو
یہی تو مجھ میں ابھی تک ہنر نہیں آیا
کسی نے خاک اڑائی ہے بدگمانی کی
زمانہ بیت گیا وہ ادھر نہیں آیا
فریب کھایا ہے جب سے مِری وفا نے تاج
خیال یار کا پھر عمر بھر نہیں آیا
تاجور سلطانہ تاج
No comments:
Post a Comment