Thursday, 25 June 2026

کوئی بھی ہنستا ہوا پھر نظر نہیں آیا

 کوئی بھی ہنستا ہوا پھر نظر نہیں آیا

گیا وہ جب سے یہاں لوٹ کر نہیں آیا

تم اپنے آپ کو الفت شناس کہتے ہو

یہی تو مجھ میں ابھی تک ہنر نہیں آیا

کسی نے خاک اڑائی ہے بدگمانی کی

زمانہ بیت گیا وہ ادھر نہیں آیا

فریب کھایا ہے جب سے مِری وفا نے تاج

خیال یار کا پھر عمر بھر نہیں آیا


تاجور سلطانہ تاج

No comments:

Post a Comment