چاہے وہم و گمان میں رکھنا
مجھ کو تو اپنے دھیان میں رکھنا
ناز کرتا ہو آسماں جس پر
شان ایسی اڑان میں رکھنا
خواب آنکھوں میں پالنا لیکن
جان اپنی لگان میں رکھنا
تجھ سے کس نے کہا تھا شیشہ گر
کوئی پتھر دکان میں رکھنا
ہم تو بدلیں گے رخ ہواؤں کا
آپ خود کو ڈھلان میں رکھنا
نیم کا پیڑ دل میں ہو لیکن
شہد اپنی زبان میں میں رکھنا
حنیف شباب
No comments:
Post a Comment