دوستو آ کر ہمیں سمجھائیے
ان کے آنے تک ذرا بہلائیے
ان نگاہِ ناز سے پینے کے بعد
کیوں عبث اب میکدے میں جائیے
نَو گرفتارانِ اُلفت سے ہمیں
وارداتِ عشق پھر سُنوائیے
ایک ہی بازی ہے کُوئے یار میں
ہارنا ہے جان و دل تو آئیے
عشق ہی سب کچھ ہے اے اختر تو کیوں
دشت میں مجنُوں کے پیچھے جائیے
حق نواز اختر
No comments:
Post a Comment