Monday, 8 June 2026

گناہ عشق میں اس بات کی تسکین ہوتی ہے

 گناہ عشق میں اس بات کی تسکین ہوتی ہے

ہوا ہو جرم گہرا تو سزا سنگین ہوتی ہے

کھلے رکھتے ہو دروازے دریچے بارہا تم کیوں

سنو دنیا تماشوں کی بڑی شوقین ہوتی ہے

سفر میں دھوپ ہے تو کیا اداسی اوڑھ لو گے تم

ملے سائے جو تھے ان کی بڑی توہین ہوتی ہے

ذرا رو لو کہیں آنسو اگر یہ سوکھ جائیں تو

نہیں ہیں زخم بھرتے اور زباں نمکین ہوتی ہے

تمہارا لوٹ کے آنا ہماری خواہش بے جا

مگر بھرتے ہیں جب بھی دم دم آمین ہوتی ہے

سہارا بن نہیں پاتے بھلے خود غرض کچھ بچے

مصیبت ہو مگر ان پہ تو ماں غمگین ہوتی ہے

سیاست اور دولت جب سیاہی سوکھ لیتے ہیں

کسی کے خون سے تصویر تب رنگین ہوتی ہے


بھاونا شریواستو

No comments:

Post a Comment