امن کی فاختہ بناتے ہوئے
پر تلک جل گئے اُڑاتے ہوئے
من سے خالی ہے اس لیے تجھ کو
طفل بھاتے نہیں ستاتے ہیں
لوٹ آئے گا وہ مِری خاطر
بس دلاسہ تھا اس کے جاتے ہوئے
عمرِ رفتہ تو ڈھے گئی ساری
اپنا آئندگاں بناتے ہوئے
آنکھ میں انتظار باقی ہے
راہ تکتی ہے آتے جاتے ہوئے
رنگ اور نور ضم ہوئے اک دن
آسماں پہ دھنک بناتے ہوئے
تُو مِری آنکھ کا ستارہ ہے
میں نے دیکھا ہے مسکراتے ہوئے
نوشابہ حفیظ ہاشمی
No comments:
Post a Comment