Tuesday, 9 June 2026

سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے

 سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے

سارا عالم کسی بارود کا گھر لگتا ہے

بیٹھ جائیں گی یہ دیواریں کسی بھی لمحہ

اپنے گھر میں بھی تو رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے

اپنے ہمسائے کے حالات ہیں اپنے جیسے

اپنے ہی گھر کی طرح ان کا بھی گھر لگتا ہے

آج بھی ہاتھ کی ریکھا کو مقدر سمجھیں

بلیاں کاٹ لیں رستے کو تو ڈر لگتا ہے

بول کے سچ ہی عدالت میں ہوئی رسوائی

اب تو سچ یہ ہے ہمیں سچ سے بھی ڈر لگتا ہے


خلیق الزماں نصرت

No comments:

Post a Comment