Monday, 15 June 2026

زندگی پہ اب اپنا اعتبار مشکل ہے

 زندگی پہ اب اپنا اعتبار مشکل ہے

خواب میں ہی مل جاؤ انتظار مشکل ہے

عمر مختصر پہ ہے بوجھ کتنے کاموں کا

اس جہان میں دیکھو تم سے پیار مشکل ہے

تھک کے بیٹھنے والے سوچ اس کے دل کا بھی

تجھ سے زیادہ جس پر اب تیری ہار مشکل ہے

یوں اداس کیا ہونا،۔ دنیا ہی یہ ایسی ہے

غم ملیں گے کتنے ہی،۔ غمگسار مشکل ہے

خواب کے نگر میں تو کچھ بھی ہو یہ ممکن ہے

خواب سارے سچ بھی ہوں میرے یار مشکل ہے


اقصیٰ فیض

No comments:

Post a Comment