زندگی پہ اب اپنا اعتبار مشکل ہے
خواب میں ہی مل جاؤ انتظار مشکل ہے
عمر مختصر پہ ہے بوجھ کتنے کاموں کا
اس جہان میں دیکھو تم سے پیار مشکل ہے
تھک کے بیٹھنے والے سوچ اس کے دل کا بھی
تجھ سے زیادہ جس پر اب تیری ہار مشکل ہے
یوں اداس کیا ہونا،۔ دنیا ہی یہ ایسی ہے
غم ملیں گے کتنے ہی،۔ غمگسار مشکل ہے
خواب کے نگر میں تو کچھ بھی ہو یہ ممکن ہے
خواب سارے سچ بھی ہوں میرے یار مشکل ہے
اقصیٰ فیض
No comments:
Post a Comment