وجہِ شہرت تِری آشفتہ سری میری ہے
شہر تیرا ہی سہی، دربدری میری ہے
چُن لیا لاکھ خُداؤں میں پُرستش کے لیے
حُسن تیرا ہی سہی، دیدہ وری میری ہے
ہے خبر موسمِ سفّاک کی مجھ کو لیکن
بارشِ سنگ میں بھی شیشہ گری میری ہے
ہو کے آزاد بھی قیدِ قفس ہی میں رہا
ہائے کیا چیز یہ بال و پری میری ہے
اب تو مانوس ہوں اس درجہ غموں سے بہزاد
بزمِ احباب میں بھی نوحہ گری میری ہے
بہزاد فاطمی
بہزاد عظیم آبادی
سید سلطان احمد
No comments:
Post a Comment