Showing posts with label صبا بلگرامی. Show all posts
Showing posts with label صبا بلگرامی. Show all posts

Thursday, 16 October 2025

صحرا کی رہگزار سے ہارے نہیں ہیں ہم

 صحرا کی رہگزار سے ہارے نہیں ہیں ہم

گلشن کی زندگی کے سہارے نہیں ہیں ہم

آہیں نکل پڑیں تو یہ عالم سلگ اٹھے

کہنے کو آدمی ہیں شرارے نہیں ہیں ہم

وابستگی ہے تم کو کسی سے ہوا کرے

لیکن نہ یہ کہو کہ تمہارے نہیں ہیں ہم

Monday, 27 January 2025

پھر تیرا نام لیا غم کو پکارا ہم نے

 پھر تیرا نام لیا غم کو پکارا ہم نے

ایک دن پھر اسی وحشت کا گزارا ہم نے

غیر کے ہاتھ نے اس مانگ میں سیندور بھرا

چاند تاروں سے جسے پہلے سنوارا ہم نے

زندگی نذر کی طوفاں کے تھپیڑوں کو تو کیا

چند موجوں کو دکھایا ہے کنارہ ہم نے

Saturday, 4 January 2025

وہ خدا کا نہیں بندگی کا نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہ خدا کا نہیں بندگی کا نہیں

جو نبیؐ کا نہیں وہ کسی کا نہیں

جس نے سمجھی نہیں عظمتِ مصطفیٰؐ

وہ علی کا نہیں، وہ ولی کا نہیں

فرش تا عرش ہیں حکمراں آپؐ ہی

یہ زمانے میں رُتبہ کسی کا نہیں

Friday, 20 December 2024

دل کو تو بہلاتا ہے

 دل کو تو بہلاتا ہے💗

رنج خوشی سے اچھا ہے

پیار سے جس نے بخشا ہے

اس کا غم اب میرا ہے

روپ کی دولت سستی ہے

پیار کا سونا مہنگا ہے

Thursday, 19 December 2024

شمع دل کی جلا لیجیے

 شمع دل کی جلا لیجیے

روشنی میں نہا لیجیے

اشک میرے شرارے بنے

آپ دامن بچا لیجیے

ہے ضرورت مجھے پیار کی

آپ اپنا بنا لیجیے