صحرا کی رہگزار سے ہارے نہیں ہیں ہم
گلشن کی زندگی کے سہارے نہیں ہیں ہم
آہیں نکل پڑیں تو یہ عالم سلگ اٹھے
کہنے کو آدمی ہیں شرارے نہیں ہیں ہم
وابستگی ہے تم کو کسی سے ہوا کرے
لیکن نہ یہ کہو کہ تمہارے نہیں ہیں ہم
صحرا کی رہگزار سے ہارے نہیں ہیں ہم
گلشن کی زندگی کے سہارے نہیں ہیں ہم
آہیں نکل پڑیں تو یہ عالم سلگ اٹھے
کہنے کو آدمی ہیں شرارے نہیں ہیں ہم
وابستگی ہے تم کو کسی سے ہوا کرے
لیکن نہ یہ کہو کہ تمہارے نہیں ہیں ہم
پھر تیرا نام لیا غم کو پکارا ہم نے
ایک دن پھر اسی وحشت کا گزارا ہم نے
غیر کے ہاتھ نے اس مانگ میں سیندور بھرا
چاند تاروں سے جسے پہلے سنوارا ہم نے
زندگی نذر کی طوفاں کے تھپیڑوں کو تو کیا
چند موجوں کو دکھایا ہے کنارہ ہم نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ خدا کا نہیں بندگی کا نہیں
جو نبیؐ کا نہیں وہ کسی کا نہیں
جس نے سمجھی نہیں عظمتِ مصطفیٰؐ
وہ علی کا نہیں، وہ ولی کا نہیں
فرش تا عرش ہیں حکمراں آپؐ ہی
یہ زمانے میں رُتبہ کسی کا نہیں
دل کو تو بہلاتا ہے💗
رنج خوشی سے اچھا ہے
پیار سے جس نے بخشا ہے
اس کا غم اب میرا ہے
روپ کی دولت سستی ہے
پیار کا سونا مہنگا ہے
شمع دل کی جلا لیجیے
روشنی میں نہا لیجیے
اشک میرے شرارے بنے
آپ دامن بچا لیجیے
ہے ضرورت مجھے پیار کی
آپ اپنا بنا لیجیے