Showing posts with label مرزا جہاں دار. Show all posts
Showing posts with label مرزا جہاں دار. Show all posts

Tuesday, 4 July 2023

دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا

 دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا

سب دیکھے دلآزار ہی دلدار نہ پایا

کب غیر کو ہمراہ تِرے اے یار نہ دیکھا

تجھ گُل کو کبھی ہم نے تو بے خار نہ پایا

تجھ رُخ سے نہ برقع اُٹھا اے غیرت خورشید

ذرہ تِرا مشتاقوں نے دیدار نہ پایا

Friday, 2 June 2023

سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھنا

 سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھنا

کیجو نہ اس سے حال دل اظہار دیکھنا

گستاخ بے طرح ہے تجھ آغوش سے یہ ہاتھ

ہو جائے گا گلے کا تِرے ہار دیکھنا

تجھ در پہ مثل نقش قدم ایک عمر سے

پیارے فتادہ ہے یہ گنہ گار دیکھنا

Wednesday, 31 May 2023

اے ظالم ترے جب سے پالے پڑے

 اے ظالم تِرے جب سے پالے پڑے

ہمیں اپنے جینے کے لالے پڑے

پھرے ڈھونڈتے پا برہنہ تجھے

یہاں تک کہ پاؤں میں چھالے پڑے

کیا ہے یہ طغیاں مِرے اشک نے

کہ بہتے ہیں دنیا میں نالے پڑے

Friday, 20 August 2021

کون سی بات تری ہم سے اٹھائی نہ گئی

کون سی بات تِری ہم سے اٹھائی نہ گئی

پر جفا جو تِری یہ نت کی لڑائی نہ گئی

نہ کہا تھا کہ تو قاتل ہو مِرا میں مقتول

سر نوشت اپنی کسی ہی سے مٹائی نہ گئی

قصد ہر چند کیا سیکھنے کا بلبل نے

وضع نالے کی مِری اس سے اڑائی نہ گئی

Wednesday, 28 July 2021

کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیا

 کوئی کر سکتا ہے یارو! جیسا میں نے کام کیا

یار کے ذمے دی کر نیکی اپنے تئیں بدنام کیا

آنکھوں سے سہلایا کِیا میں تلوے اس کے وقتِ خواب

اتنی خدمت دیکھ مِری گھر غیر کے جا آرام کیا

کون سی شب بے نالہ و زاری میں نے نہیں کی اس بِن صبح

کون سا دن بے رنج و مصیبت میں نہ رو رو شام کیا