دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا
سب دیکھے دلآزار ہی دلدار نہ پایا
کب غیر کو ہمراہ تِرے اے یار نہ دیکھا
تجھ گُل کو کبھی ہم نے تو بے خار نہ پایا
تجھ رُخ سے نہ برقع اُٹھا اے غیرت خورشید
ذرہ تِرا مشتاقوں نے دیدار نہ پایا
دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا
سب دیکھے دلآزار ہی دلدار نہ پایا
کب غیر کو ہمراہ تِرے اے یار نہ دیکھا
تجھ گُل کو کبھی ہم نے تو بے خار نہ پایا
تجھ رُخ سے نہ برقع اُٹھا اے غیرت خورشید
ذرہ تِرا مشتاقوں نے دیدار نہ پایا
سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھنا
کیجو نہ اس سے حال دل اظہار دیکھنا
گستاخ بے طرح ہے تجھ آغوش سے یہ ہاتھ
ہو جائے گا گلے کا تِرے ہار دیکھنا
تجھ در پہ مثل نقش قدم ایک عمر سے
پیارے فتادہ ہے یہ گنہ گار دیکھنا
اے ظالم تِرے جب سے پالے پڑے
ہمیں اپنے جینے کے لالے پڑے
پھرے ڈھونڈتے پا برہنہ تجھے
یہاں تک کہ پاؤں میں چھالے پڑے
کیا ہے یہ طغیاں مِرے اشک نے
کہ بہتے ہیں دنیا میں نالے پڑے
کون سی بات تِری ہم سے اٹھائی نہ گئی
پر جفا جو تِری یہ نت کی لڑائی نہ گئی
نہ کہا تھا کہ تو قاتل ہو مِرا میں مقتول
سر نوشت اپنی کسی ہی سے مٹائی نہ گئی
قصد ہر چند کیا سیکھنے کا بلبل نے
وضع نالے کی مِری اس سے اڑائی نہ گئی
کوئی کر سکتا ہے یارو! جیسا میں نے کام کیا
یار کے ذمے دی کر نیکی اپنے تئیں بدنام کیا
آنکھوں سے سہلایا کِیا میں تلوے اس کے وقتِ خواب
اتنی خدمت دیکھ مِری گھر غیر کے جا آرام کیا
کون سی شب بے نالہ و زاری میں نے نہیں کی اس بِن صبح
کون سا دن بے رنج و مصیبت میں نہ رو رو شام کیا