دھڑکنوں کی زباں میں رہتا ہوں
ہر نئی داستاں میں رہتا ہوں
میں نے چاہا نہیں خُدا ہونا
پھر بھی کیوں لامکاں میں رہتا ہوں
چلتے رہنا مِرا مقدر ہے
وقت کے کارواں میں رہتا ہوں
دھڑکنوں کی زباں میں رہتا ہوں
ہر نئی داستاں میں رہتا ہوں
میں نے چاہا نہیں خُدا ہونا
پھر بھی کیوں لامکاں میں رہتا ہوں
چلتے رہنا مِرا مقدر ہے
وقت کے کارواں میں رہتا ہوں
یہ بہار کیا یہ خزاں ہے کیا مِرے دل کے دشت و چمن میں آ
کبھی پُھول پُھول پھبن میں آ،۔ کبھی خار خار چُبھن میں آ
تِرے ہات میں مِرا ہات ہو، تِری بات میں مِری بات ہو
نہ کبھی حیات میں مات ہو، مِری عاشقی کے چلن میں آ
تِرا پُھول پُھول ہے پیرہن، تِرا رنگ رنگ ہے بانکپن
تجھے دیکھنے میں رہوں مگن مِرے دیکھنے کی لگن میں آ
گُلشن کو شعلہ زار بناتے ہو کس لیے
اپنے ہی گھر کو آگ لگاتے ہو کس لیے
کتنے ہی گُل جمال یہاں خُوش خرام ہیں
کانٹے روش روش پہ بِچھاتے ہو کس لیے
اسلام ہے ازل سے علمدارِ دوستی
آپس میں دوستوں کو لڑاتے ہو کس لیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ یقیناً دامنِ امن واماں میں آ گیا
جو پناہ سیدِ کون و مکاںﷺ میں آ گیا
آپؐ کا اسمِ مبارک لیتے ہی گرداب میں
رحمتوں کا ایک جھونکا بادباں میں آ گیا
روشنی پھیلی اندھیرے چھٹ گئے رستے کُھلے
لا مکاں سے میم کا سورج مکاں میں آ گیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپﷺ کا حُسنِ عطا، حُسنِ ادا اچھا لگا
آپؐ کی سرکار سے جو کچھ مِلا اچھا لگا
آپﷺ کا لایا ہوا سلام ہی، اسلام ہے
آپﷺ کے اسلام کا پیرو سدا اچھا لگا
آپؐ کے اصحاب سے باتیں سُنی ہیں آپؐ کی
آپؐ نے اصحاب سے جو کچھ کہا اچھا لگا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تُو نظر آتا نہیں
انت خیر الخالقین
رحم کر بس رحم کر
انت خیر الرّٰحِمین
علم کا در کھول دے
انت خیر الکاشِفین
مُجھے پھر ڈُھونڈنے نکلے زمانے والے
کہیں مِلتے نہیں رَستہ دِکھانے والے
یہ کیسی سمت دُنیا کا سفر جاری ہے
بِگڑتے جا رہے ہیں خُود کو بنانے والے
بُجھائے جا رہے ہیں کیوں سحر سے پہلے
اُجالے کے لیے شمعیں جلانے والے