Thursday, 16 July 2026

ریگ کا یہ سلسلہ آب رواں کیسے ہوا

 ایک حرفِ مُدعا تھا داستاں کیسے ہُوا

ریگ کا یہ سِلسلہ آبِ رواں کیسے ہوا

وہ ابھی ہمراہ تھا اِس زندگی کے دشت میں

عُمر بھر کا ساتھ پل میں رائیگاں کیسے ہوا

آشنائی میں وہ چہرہ صُورتِ خُورشید تھا

اجنبی ہو کر وہی چہرہ دُھواں کیسے ہوا

دل تو پہلے ہی لہُو تھا دُشنۂ ایّام سے

تجھ سے یہ وارِ سِتم اے مہرباں کیسے ہوا

ہو گئی شاید خبر اس کو فضا میں زہر کی

تازہ دم طائر وگرنہ نِیم جاں کیسے ہوا


احمد عظیم صدیقی

No comments:

Post a Comment