Showing posts with label احمد سبحانی آکاش. Show all posts
Showing posts with label احمد سبحانی آکاش. Show all posts

Thursday, 11 November 2021

انتظار

 انتظار

             

جھل مل، جھل مل تارے چمکے

پلیکیں بوجھل، سانسیں بے کل

لب لرزیدہ مدھم، مدھم 

دل کی دھڑکن، دھک دھک، دھک دھک 

آس کے بادل گہرے، گہرے

Wednesday, 10 November 2021

ٹوٹ جانے پہ بھی خفا نہ ہوئے

 ٹوٹ جانے پہ بھی خفا نہ ہوئے 

عکس اور آئینہ جدا نہ ہوئے 

وقت نے زاویے بدل ڈالے 

جو نشانی تھے وہ نشانہ ہوئے 

سانس کے ساتھ سانس لیتے لوگ 

دیکھتے، دیکھتے فسانہ ہوئے 

Monday, 8 November 2021

ذوق تعمیر کے لیے ہی تو ہے

 ذوقِ تعمیر کے لیے ہی تو ہے 

خواب تعبیر کے لیے ہی تو ہے 

خوش نصیبی کا ساتھ ہو تو میاں 

عقل تدبیر کے لیے ہی تو ہے 

خود شناسائی کا تصور بھی 

ایک تسخیر کے لیے ہی تو ہے 

Friday, 5 November 2021

اپنے گھر کے مکان ہونے تک

 اپنے گھر کے مکان ہونے تک

ہم جیۓ، داستان ہونے تک 

حسن ہے آب و تاب تک محدود 

عشق ہے بد گمان ہونے تک 

ایک جذبے کو مار ڈالے گا 

ایک جذبہ جوان ہونے تک 

Thursday, 28 October 2021

خواہشوں کا غلام تھا ہی نہیں

 خواہشوں کا غلام تھا ہی نہیں 

دل، کبھی تشنہ کام تھا ہی نہیں 

میں کوئی اور کام کیا کرتا 

عشق میں اور کام تھا ہی نہیں 

اس کی عادات جانتا ہوں میں 

وہ اشارہ سلام تھا ہی نہیں 

Monday, 25 October 2021

کچھ بھی کہہ لیں سزا نہیں کہتے

 کچھ بھی کہہ لیں، سزا نہیں کہتے

دردِ دل کو برا، نہیں کہتے

آپ سنتے ہیں کیوں کسی کی بات

چھوڑئیے، لوگ کیا نہیں کہتے

کچھ ہمارا بھی دوش تھا شاید

آپ ہی کی خطا نہیں کہتے

Sunday, 24 October 2021

ٹوٹ جائے گی تیغ نفرت کی

 ٹوٹ جائے گی تیغ نفرت کی

آسماں نے اگر حمایت کی

سر ابھارا خزاں کے پہلو سے 

شاخ پر کونپلوں نے ہمت کی

نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 

خواب نے ذہن پر حکومت کی 

Saturday, 23 October 2021

اک دعا کی برکتوں سے بچ گیا ہوں مشکلوں سے

 اک دعا کی برکتوں سے 

بچ گیا ہوں مشکلوں سے 

خواہشِ خود آشنائی 

عکس مانگے پتھروں سے 

ایک سجدے نے بچایا 

در بہ در کی ٹھوکروں سے 

Sunday, 22 August 2021

فضائے خلد کو اپنے خلاف کون کرے

 فضائے خُلد کو اپنے خلاف کون کرے

جمالِ یار سے اب انحراف کون کرے

منائے کون اسے، وہ اگر خفا ہی نہ ہو

خطا نہ ہو تو کسی کو معاف کون کرے

نظر کی کار گُزاری ہی جب نہ ہو بس میں

پھر آئینے سے بھلا اختلاف کون کرے