انتظار
جھل مل، جھل مل تارے چمکے
پلیکیں بوجھل، سانسیں بے کل
لب لرزیدہ مدھم، مدھم
دل کی دھڑکن، دھک دھک، دھک دھک
آس کے بادل گہرے، گہرے
انتظار
جھل مل، جھل مل تارے چمکے
پلیکیں بوجھل، سانسیں بے کل
لب لرزیدہ مدھم، مدھم
دل کی دھڑکن، دھک دھک، دھک دھک
آس کے بادل گہرے، گہرے
ٹوٹ جانے پہ بھی خفا نہ ہوئے
عکس اور آئینہ جدا نہ ہوئے
وقت نے زاویے بدل ڈالے
جو نشانی تھے وہ نشانہ ہوئے
سانس کے ساتھ سانس لیتے لوگ
دیکھتے، دیکھتے فسانہ ہوئے
ذوقِ تعمیر کے لیے ہی تو ہے
خواب تعبیر کے لیے ہی تو ہے
خوش نصیبی کا ساتھ ہو تو میاں
عقل تدبیر کے لیے ہی تو ہے
خود شناسائی کا تصور بھی
ایک تسخیر کے لیے ہی تو ہے
اپنے گھر کے مکان ہونے تک
ہم جیۓ، داستان ہونے تک
حسن ہے آب و تاب تک محدود
عشق ہے بد گمان ہونے تک
ایک جذبے کو مار ڈالے گا
ایک جذبہ جوان ہونے تک
خواہشوں کا غلام تھا ہی نہیں
دل، کبھی تشنہ کام تھا ہی نہیں
میں کوئی اور کام کیا کرتا
عشق میں اور کام تھا ہی نہیں
اس کی عادات جانتا ہوں میں
وہ اشارہ سلام تھا ہی نہیں
کچھ بھی کہہ لیں، سزا نہیں کہتے
دردِ دل کو برا، نہیں کہتے
آپ سنتے ہیں کیوں کسی کی بات
چھوڑئیے، لوگ کیا نہیں کہتے
کچھ ہمارا بھی دوش تھا شاید
آپ ہی کی خطا نہیں کہتے
ٹوٹ جائے گی تیغ نفرت کی
آسماں نے اگر حمایت کی
سر ابھارا خزاں کے پہلو سے
شاخ پر کونپلوں نے ہمت کی
نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
خواب نے ذہن پر حکومت کی
اک دعا کی برکتوں سے
بچ گیا ہوں مشکلوں سے
خواہشِ خود آشنائی
عکس مانگے پتھروں سے
ایک سجدے نے بچایا
در بہ در کی ٹھوکروں سے
فضائے خُلد کو اپنے خلاف کون کرے
جمالِ یار سے اب انحراف کون کرے
منائے کون اسے، وہ اگر خفا ہی نہ ہو
خطا نہ ہو تو کسی کو معاف کون کرے
نظر کی کار گُزاری ہی جب نہ ہو بس میں
پھر آئینے سے بھلا اختلاف کون کرے