Wednesday, 10 November 2021

ٹوٹ جانے پہ بھی خفا نہ ہوئے

 ٹوٹ جانے پہ بھی خفا نہ ہوئے 

عکس اور آئینہ جدا نہ ہوئے 

وقت نے زاویے بدل ڈالے 

جو نشانی تھے وہ نشانہ ہوئے 

سانس کے ساتھ سانس لیتے لوگ 

دیکھتے، دیکھتے فسانہ ہوئے 

جانبِ منزلِ صدائے دل

چھوڑ کر سائباں روانہ ہوئے 


احمد سبحانی آکاش

No comments:

Post a Comment