اس دل پہ رقم تھا تو، مگر کاٹ چکا ہوں
گویا کہ میں نشتر سے جگر کاٹ چکا ہوں
یہ چھاؤں مِری صحرا نوردی نہ نگل لے
میں اپنے ہی ہاتھوں سے شجر کاٹ چکا ہوں
تْو جتنے بھی نفرت کے چلے کاٹ، گرہیں باندھ
میں وردِ محبت سے اثر کاٹ چکا ہوں
مہمیز کیا عشق نے یوں عمرِ رواں کو
پچیس میں ستّر کا سفر کاٹ چکا ہوں
عمران عاشر
No comments:
Post a Comment