Wednesday, 10 November 2021

تھوڑی سی حرات ہے جو مرحوم کے اندر

 تھوڑی سی حرات ہے جو مرحوم کے اندر

خواہش کوئی گردش میں ہے حلقوم کے اندر

اب ہجر میں اے جان! پھسلنے کا مزہ چکھ

کائی سی جمی ہے دلِ مغموم کے اندر

گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے شب و روز

ہے چہرہ جو اس چہرۂ معصوم کے اندر

وہ نشۂ مے سے بھی سوا لگتی ہے مجھ کو

جانم نے ملایا ہے جو پرفیوم کے اندر

دہلیز کے باہر تو بلاوے کی مہک تھی

سو آ گیا چوکھٹ کو تِری چوم کے اندر


شمیم قاسمی

No comments:

Post a Comment