تھوڑی سی حرات ہے جو مرحوم کے اندر
خواہش کوئی گردش میں ہے حلقوم کے اندر
اب ہجر میں اے جان! پھسلنے کا مزہ چکھ
کائی سی جمی ہے دلِ مغموم کے اندر
گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے شب و روز
ہے چہرہ جو اس چہرۂ معصوم کے اندر
وہ نشۂ مے سے بھی سوا لگتی ہے مجھ کو
جانم نے ملایا ہے جو پرفیوم کے اندر
دہلیز کے باہر تو بلاوے کی مہک تھی
سو آ گیا چوکھٹ کو تِری چوم کے اندر
شمیم قاسمی
No comments:
Post a Comment