Wednesday, 10 November 2021

یہ کیسے مان لیں ہم اس کو کوئی غم نہیں ہوتا

 یہ کیسے مان لیں ہم اس کو کوئی غم نہیں ہوتا

کہ جس کی آنکھوں کا کوئی کنارا نم نہیں ہوتا

اگر ہاتھوں میں اس کے کاغذی پر چم نہیں ہوتا

تو بادل کے برسنے کا اسے بھی غم نہیں ہوتا

میں ضد کرتے ہوئے بچے کو آخر کیسے سمجھاؤں

مِرے کمرے کا جگنو سے اندھیرا کم نہیں ہوتا

کسی نے دُکھتی رگ پر ہاتھ بڑھ کر رکھ دیا ہو گا

سمندر ایسی ویسی بات پر برہم نہیں ہوتا

دعا کرتے رہو بچنے کی تم ڈرتے رہو اس سے 

کہ اٹھ جانے کا دنیا سے کوئی موسم نہیں ہوتا

یہ دنیا اس کے رستے میں قدم بوسی کو آتی ہے

کبھی جس کے ارادے کا کہیں سرخم نہیں ہوتا

ہم اپنے دل کے زخموں پر نمک رکھ لیتے ہیں اشرف

جب ان کی گفتگو میں پیار کا مرہم نہیں ہوتا


اشرف یعقوبی

No comments:

Post a Comment