یہ کیسے مان لیں ہم اس کو کوئی غم نہیں ہوتا
کہ جس کی آنکھوں کا کوئی کنارا نم نہیں ہوتا
اگر ہاتھوں میں اس کے کاغذی پر چم نہیں ہوتا
تو بادل کے برسنے کا اسے بھی غم نہیں ہوتا
میں ضد کرتے ہوئے بچے کو آخر کیسے سمجھاؤں
مِرے کمرے کا جگنو سے اندھیرا کم نہیں ہوتا
کسی نے دُکھتی رگ پر ہاتھ بڑھ کر رکھ دیا ہو گا
سمندر ایسی ویسی بات پر برہم نہیں ہوتا
دعا کرتے رہو بچنے کی تم ڈرتے رہو اس سے
کہ اٹھ جانے کا دنیا سے کوئی موسم نہیں ہوتا
یہ دنیا اس کے رستے میں قدم بوسی کو آتی ہے
کبھی جس کے ارادے کا کہیں سرخم نہیں ہوتا
ہم اپنے دل کے زخموں پر نمک رکھ لیتے ہیں اشرف
جب ان کی گفتگو میں پیار کا مرہم نہیں ہوتا
اشرف یعقوبی
No comments:
Post a Comment