مشغلہ زیست کا یہ روز و شبانہ ٹھہرا
زلف برہم کے لیے وقت ہی شانہ ٹھہرا
روز اخبار کی تصویر بدل جاتی ہے
اپنی آنکھوں میں کہاں کوئی زمانہ ٹھہرا
زندگی وقت کی رفتار سے ڈر جاتی ہے
زندہ رہنے کے لیے مرنا بہانہ ٹھہرا
اپنی ناکام تمنا کی نشانی، توبہ
دل تو یادوں کا فقط ایک ٹھکانہ ٹھہرا
ایک دنیا کی نگاہیں ہیں تمہیں پر مرکوز
دل ہے حیران کہ میں کسی کا دِوانہ ٹھہرا
ہم نے خوابوں کو بھی سچ ہوتے ہوئے دیکھا ہے
ہے دِگر بات کہ یہ سچ بھی فسانہ ٹھہرا
یہ جہاں چھوڑ کر جانا ہے عطا تو بولو
یہ جہاں کس کے لیے اپنا ٹھکانہ ٹھہرا
عطا عابدی
No comments:
Post a Comment