فیضانِ حماقت
میں کہ خود اپنی ہی مخبر ہوں بتاتی ہوں تمہیں
کہ مجھے رب نے فقط دھوکے اٹھانے کے لیے
اور تمہیں راس رچانے کے لیے بھیجا ہے
میری گھٹی میں حماقت ہی نہیں
دھوکہ کھانے کی لیاقت بھی بہت شامل ہے
دیکھو، موقع ہے سنہرا، اب کہ
دو فریب اتنے کہ احساسِ حقیقت نہ رہے
تم کو اک حوّا سے افسوسِ ہزیمت نہ رہے
عذرا پروین
No comments:
Post a Comment