اس کے ہونٹوں پر سُر مہکا کرتے ہیں
ہم اب خُوشبو سے تر سویا کرتے ہیں
روشن رہتے ہیں غم سطح پہ اشکوں کی
یہ پتھر پانی پر تیرا کرتے ہیں
دن بھر میں ان کی نگرانی کرتا ہوں
شب بھر میرے سپنے جاگا کرتے ہیں
اس کے ہونٹوں پر سُر مہکا کرتے ہیں
ہم اب خُوشبو سے تر سویا کرتے ہیں
روشن رہتے ہیں غم سطح پہ اشکوں کی
یہ پتھر پانی پر تیرا کرتے ہیں
دن بھر میں ان کی نگرانی کرتا ہوں
شب بھر میرے سپنے جاگا کرتے ہیں
عشق کی اک رنگین صدا پر برسے رنگ
رنگ ہو مجنوں اور لیلیٰ پر برسے رنگ
کب تک چُنری پر ہی ظُلم ہوں رنگوں کے
رنگریزہ! تیری بھی قبا پر برسے رنگ
خواب بھریں تِری آنکھیں میری آنکھوں میں
ایک گھٹا سے ایک گھٹا پر برسے رنگ
کرن اک معجزہ سا کر گئی ہے
دھنک کمرے میں میرے بھر گئی ہے
اُچک کر دیکھتی تھی نیند تم کو
لو یہ آنکھوں سے گِر کر مر گئی ہے
خموشی چُھپ رہی ہے اب صدا سے
یہ بچی اجنبی سے ڈر گئی ہے
تم سے اک دن کہیں ملیں گے ہم
خرچ خود کو تبھی کریں گے ہم
عشق! تجھ کو خبر بھی ہے اب کے
تیرے ساحل سے جا لگیں گے ہم
کس نے رستے میں چاند رکھا ہے
اس سے ٹکرا کے گر پڑیں گے ہم
ایسی اچھی صورت نکلی پانی کی
آنکھیں پیچھے چھوٹ گئیں سیلانی کی
کیرم ہو شطرنج ہو یا پھر عشق ہی ہو
کھیل کوئی ہو ہم نے بے ایمانی کی
قید ہوئی ہیں آنکھیں خواب جزیرے پر
پا کر ایک سزا سی کالے پانی کی