Friday, 18 March 2022

ایسی اچھی صورت نکلی پانی کی

 ایسی اچھی صورت نکلی پانی کی 

آنکھیں پیچھے چھوٹ گئیں سیلانی کی 

کیرم ہو شطرنج ہو یا پھر عشق ہی ہو 

کھیل کوئی ہو ہم نے بے ایمانی کی 

قید ہوئی ہیں آنکھیں خواب جزیرے پر 

پا کر ایک سزا سی کالے پانی کی 

دیواروں پر چاند ستارے روشن ہیں 

بچوں نے دیکھو تو کیا شیطانی کی 

چاند کی گولی رات نے کھا ہی لی آخر 

پہلے تو شیطان نے آنا کانی کی

جلتے دِیے سا اک بوسہ رکھ کر اس نے 

چمک بڑھا دی ہے میری پیشانی کی 

میں اس کی آنکھوں کے پیچھے بھاگا تھا 

جب افواہ اڑی تھی ان میں پانی کی


سوپنل تیواڑی

No comments:

Post a Comment