Friday, 18 March 2022

کافی دنوں جیا ہوں کسی دوست کے بغیر

کافی دنوں جیا ہوں کسی دوست کے بغیر

اب تم بھی ساتھ چھوڑنے کو کہہ رہے ہو، خیر

کب سے تِرے دیار میں ہوں میں تِرے بغیر

مجھ سے ہے  آسماں کو خدا واسطے کا بیر

’’یوں زندگی گُزار رہا ہوں تِرے بغیر‘‘

جیسے کرے خزاں میں کوئی گُلستاں کی سیر

باندھو صفیں نمازِ جماعت کے واسطے

میں کون؟ اے شیوخِ حرم! پیش امامِ دَیر

جاتے ہیں داغ صحبتِ شب کا لیے ہوئے 

اچھا جو ہو سکا تو کل آئیں گے، شب بخیر

عُقبٰی کی زندگی کا خدا حافظ اے ندیم

ہم تو منا رہے ہیں اسی زندگی کی خیر

تا حال ہو سکے نہ ہم آہنگ سازِ دہر

کانوں میں آ رہی ہے ابھی اک صدائے غیر

اخلاقِ طبع یار! تجھے ماننا پڑا

ملنا اُسی تپاک سے وہ خویش ہوں کہ غیر

جو بھی نگاہ اُٹھتی ہے وہ میکدہ بدوش

اے نرگسِ سیاہ!! تِری نیّتیں بخیر

تقدیرِ حُسن و عشق جدائی ہے، الوداع

ہے زندگی اگر تو کبھی پھر ملیں گے خیر

راہیں پکارتی ہیں کہ صاحب پرے پرے

شعلے بچھے ہوئے ہیں دلوں کے بچا کے پیر

اس قُرب سے تو دردِ فراق اور بڑھ گیا

’’گھر جب بنا لیا تِرے در پر کہے بغیر‘‘


فراق گورکھپوری

No comments:

Post a Comment