Showing posts with label سحرتاب رومانی. Show all posts
Showing posts with label سحرتاب رومانی. Show all posts

Wednesday, 9 March 2022

میں نے یہ کب کہا ہے کے دھوکے کیے گئے

 میں نے یہ کب کہا ہے کے دھوکے کیے گئے

وعدے کیے گئے تھے جو، پورے کیے گئے؟

پہلے تو بیچ صحن میں دیوار تھی فقط

پھر اس مکان کے کئی حصے کیے گئے

پہلے ہماری سرحدیں تشکیل دی گئیں

پھر اس کے بعد ملک کے سودے کیے گئے

Wednesday, 22 September 2021

آسماں سے ستارہ نہیں آئے گا

 آسماں سے ستارہ نہیں آئے گا

اب کوئی بھی اشارہ نہیں آئے گا

ہاتھ آئے گا وہ میرے تھوڑا بہت

وہ کسی طور سارا نہیں آئے گا

کیوں اِدھر مستقل دھوپ ہی دھوپ ہے

کیا اِدھر اَبر پارہ نہیں آئے گا؟

Monday, 20 September 2021

میکدے سے ایاغ لے آئے

  میکدے سے ایاغ لے آئے

ہم بھی اپنا سراغ لے آئے

کچھ نہیں بس تمہاری محفل سے

بد گمانی کے داغ لے آئے

بات دل کی تھی دل سے ہو جاتی

بیچ میں تم دماغ لے آئے

Saturday, 18 September 2021

تیرا آنچل نہیں ہوتا ہے

 تیرا آنچل نہیں ہوتا ہے

ابر بادل نہیں ہوتا ہے

بارشیں تو بہت ہوتی ہیں

دشت جل تھل نہیں ہوتا ہے

مستقل ہے یہ کیسی کمی

کچھ مکمل نہیں ہوتا ہے

Friday, 17 September 2021

جا کبھی اور جا کے وقت لگا

جا کبھی اور جا کے وقت لگا

اس فقیری میں تاج و تخت لگا

اس نے دنیا کو گلستاں لکھا

مجھ کو عالمِ تمام دشت لگا

تیرگی میں لگا ستارہ، اور

دھوپ میں وہ مجھے درخت لگا

Monday, 3 May 2021

خود کو فقدان سے نکالوں گا

 خود کو فقدان سے نکالوں گا

نفع نقصان سے نکالوں گا

کھیل کھیلوں گا میں اکیلے اب

سب کو میدان سے نکالوں گا

یعنی پتوار توڑ دوں گا اور

ناؤ طوفان سے نکالوں گا