میں نے یہ کب کہا ہے کے دھوکے کیے گئے
وعدے کیے گئے تھے جو، پورے کیے گئے؟
پہلے تو بیچ صحن میں دیوار تھی فقط
پھر اس مکان کے کئی حصے کیے گئے
پہلے ہماری سرحدیں تشکیل دی گئیں
پھر اس کے بعد ملک کے سودے کیے گئے
میں نے یہ کب کہا ہے کے دھوکے کیے گئے
وعدے کیے گئے تھے جو، پورے کیے گئے؟
پہلے تو بیچ صحن میں دیوار تھی فقط
پھر اس مکان کے کئی حصے کیے گئے
پہلے ہماری سرحدیں تشکیل دی گئیں
پھر اس کے بعد ملک کے سودے کیے گئے
آسماں سے ستارہ نہیں آئے گا
اب کوئی بھی اشارہ نہیں آئے گا
ہاتھ آئے گا وہ میرے تھوڑا بہت
وہ کسی طور سارا نہیں آئے گا
کیوں اِدھر مستقل دھوپ ہی دھوپ ہے
کیا اِدھر اَبر پارہ نہیں آئے گا؟
میکدے سے ایاغ لے آئے
ہم بھی اپنا سراغ لے آئے
کچھ نہیں بس تمہاری محفل سے
بد گمانی کے داغ لے آئے
بات دل کی تھی دل سے ہو جاتی
بیچ میں تم دماغ لے آئے
تیرا آنچل نہیں ہوتا ہے
ابر بادل نہیں ہوتا ہے
بارشیں تو بہت ہوتی ہیں
دشت جل تھل نہیں ہوتا ہے
مستقل ہے یہ کیسی کمی
کچھ مکمل نہیں ہوتا ہے
جا کبھی اور جا کے وقت لگا
اس فقیری میں تاج و تخت لگا
اس نے دنیا کو گلستاں لکھا
مجھ کو عالمِ تمام دشت لگا
تیرگی میں لگا ستارہ، اور
دھوپ میں وہ مجھے درخت لگا
خود کو فقدان سے نکالوں گا
نفع نقصان سے نکالوں گا
کھیل کھیلوں گا میں اکیلے اب
سب کو میدان سے نکالوں گا
یعنی پتوار توڑ دوں گا اور
ناؤ طوفان سے نکالوں گا