Friday, 17 September 2021

جا کبھی اور جا کے وقت لگا

جا کبھی اور جا کے وقت لگا

اس فقیری میں تاج و تخت لگا

اس نے دنیا کو گلستاں لکھا

مجھ کو عالمِ تمام دشت لگا

تیرگی میں لگا ستارہ، اور

دھوپ میں وہ مجھے درخت لگا

اُس سے کہنا کہ؛ سنگ ہی مارے

پھول تو ہے بہت ہی سخت لگا

میں کہاں ہوں سحر کہانی میں؟

یہ سمجھنے میں مجھ کو وقت لگا


سحرتاب رومانی

No comments:

Post a Comment