Friday, 17 September 2021

ترک غم گوارا ہے اور نہ غم کا یارا ہے

ترکِ غم گوارا ہے اور نہ غم کا یارا ہے

اب تو دل کی ہر دھڑکن عالم آشکارا ہے

ہم سے بے سہاروں کو آپ کا سہارا ہے

آپ ہی کی دُکھ سُکھ میں عُمر بھر پکارا ہے

موج خُود سفینہ ہے بحر خُود کنارا ہے

ناخدا سے کیا مطلب جب خدا ہمارا ہے

ہو چلا یقین جب سے وہ حسیں ہمارا ہے

یہ خوش اعتمادی بھی اک بڑا سہارا ہے

یہ تو کہیے کیا اس کو آپ چھوڑ سکتے ہیں

جس نے مرتے مرتے بھی آپ کو پکارا ہے

لطف بندگی تم سے میری زندگی تم سے

تم نہیں تو پھر کس کو زندگی گوارا ہے

کس خطا پہ جھونکی ہے خاک میری آنکھوں میں

کیا مقام تھا میرا اور کہاں اُتارا ہے

حاصل مراد دل چشم التفاف اس کی

ساری کائنات اپنی وہ اگر ہمارا ہے

پھر اسی پہ مرنے کو جی اٹھوں گا محشر میں

پھر وہی جلائے گا جس نے مجھ کو مارا ہے

بچ کے سب کی نظروں سے ہم نے آنکھوں آنکھوں میں

اپنے یار کا صدقہ بارہا اتارا ہے

یہ تو صاف ظاہر ہے ہم اسی کے بندے ہیں

کوئی اس سے جا پوچھے وہ بھی کیا ہمارا ہے

جو نہ دیکھ سکتا ہو چاک‌ دامنی میری

چاک‌ پردۂ عصیاں کب اسے گوارا ہے

ہم سے پوچھئے صاحب انتظار کی گھڑیاں

ہم نے رات کاٹی ہے ہم نے دن گزارا ہے

اک طرف تمنائیں اک طرف خوشی ان کی

ہائے کس دوراہے پر کشمکش نے مارا ہے

بے ہنری سہی لیکن بے وفا نہیں کامل

یہ تمہارا بندہ ہے اور فقط تمہارا ہے


کامل شطاری

No comments:

Post a Comment