Showing posts with label حسن عباسی. Show all posts
Showing posts with label حسن عباسی. Show all posts

Tuesday, 19 July 2022

کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے

 کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے

تِرے تصور میں ہم نے کر لی کتاب آگے

وہ بعد مدت ملا تو رونے کی آرزو میں

نکل کے آنکھوں سے گر پڑے چند خواب آگے

دل و نظر میں ہی اپنے خیمے لگا لیے ہیں

ہمیں خبر ہے کہ راستہ ہے خراب آگے

Sunday, 28 February 2021

تم وہ پہلی لڑکی ہو

 تم وہ پہلی لڑکی ہو


 تم وہ پہلی لڑکی ہو

جس کو دیکھ کے

میری آنکھیں خوابوں سے بھر جاتی ہیں

پیار کی نیلی کرنیں

دل کے کمرے میں در آتی ہیں

Monday, 24 August 2020

چوم کے ماتھا مرا روز جگائے کوئی

چوم کے ماتھا مِرا روز جگائے کوئی
اٹھ کے دیکھوں تو نظر بھی نہیں آئے کوئی
پاؤں اٹھتے ہی چلے جاتے ہیں جنگل کی طرف
مجھ کو مانوس سی آواز بلائے کوئی
لوگ آتے ہیں ٹھہرتے ہیں چلے جاتے ہیں
ایسا لگتا ہے کہ مجھ میں ہے سرائے کوئی

اگرچہ زخم تو گہرا لگا ہے

اگرچہ زخم تو گہرا لگا ہے
مگر اس بار چلنا آ گیا ہے
گلہ مجھ کو نہیں ہے تم سے کوئی
ابھی تم سے فقط اتنا گلہ ہے
میں کیسے زندگی سے روٹھ جاؤں
کوئی مجھ سے ابھی تک روٹھتا ہے

Sunday, 23 August 2020

سورج کبھی تو میرے نشانے پہ آئے گا

سورج کبھی تو میرے نشانے پہ آئے گا
پھر چاند🌕 کا دماغ ٹھکانے پہ آئے گا
میں مانتا ہوں کوئی نہیں اس سا خوش مزاج
میں جانتا ہوں جب وہ رُلانے پہ آئے گا
✨ہر کام اپنا ہو گا برابر اسی طرح✨
جھونکا ہوا کا دیپ🪔 جلانے پہ آئے گا

دل ہے تاریک اسے نور کا ہالہ کر دے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

دل ہے تاریک اسے نور کا ہالہ کر دے
اِک نظر میری طرف بھی شہِ والاؐ کر دے
خوف کے غار میں ہوں اور تعاقب میں عدو
کہہ دے مکڑی سے درِ غار پہ جالا کر دے
میں جسے بیچ کے اِک تیشۂ محنت لے لوں
کوئی آنسو💧 مِرا مٹی کا پیالہ کر دے

Saturday, 22 August 2020

جلتا ہوا اک خواب یہاں چھوڑ کے جاؤں

جلتا ہوا اک خواب یہاں چھوڑ کے جاؤں
جنگل میں کوئی اپنا نشاں چھوڑ کے جاؤں
کچھ دیر تو آباد رہیں گے در و دیوار
آنگن میں چراغوں کا دھواں چھوڑ کے جاؤں
دل اس کا نہیں لگتا کہیں میرے علاوہ
میں تیری جدائی کو کہاں چھوڑ کے جاؤں

رات یہ کون مرے خواب میں آیا ہوا تھا

رات یہ کون مِرے خواب میں آیا ہوا تھا
صبح میں وادئ شاداب میں آیا ہوا تھا
اک پرندے کی طرح اڑ گیا کچھ دیر ہوئی
عکس اس شخص کا تالاب میں آیا ہوا تھا
میں بھی اس کیلئے بیٹھا رہا چھت پر شب بھر
وہ بھی میرے لئے مہتاب میں آیا ہوا تھا

ان آنکھوں کی اجازت مار دے گی

ان آنکھوں کی اجازت مار دے گی
مجھے اس بار ہجرت مار دے گی
ہنسی میں دکھ چھپا لیتا ہوں اپنے
کسی دن یہ سہولت مار دے گی
کبھی سوچا نہیں تھا تیرے ہوتے
کوئی تازہ محبت مار دے گی

Saturday, 17 February 2018

اداس چاند کھلے پانیوں میں چھوڑ گیا

اداس چاند کھلے پانیوں میں چھوڑ گیا
وہ اپنا چہرہ مِرے آنسوؤں میں چھوڑ گیا
ہوا کے جھونکے سے لرزی تھی ایک شاخِ گل
کسی کا دھیان مجھے خوشبوؤں میں چھوڑ گیا
گلے ملے تھے محبت کی تیز دھوپ میں ہم
یہ کون اڑتے ہوئے بادلوں میں چھوڑ گیا

کب ہے ایسا کسی زنجیر نے جانے نہ دیا

کب ہے ایسا کسی زنجیر نے جانے نہ دیا
گھر سے باہر تِری تصویر نے جانے نہ دیا
دشت میں تیری صدا پر میں پہنچ سکتا تھا
پشت سے پھینکے گئے تیر نے جانے نہ دیا
روز اک خواب نے پاؤں سے سفر باندھا مگر
روز اک خواب کی تعبیر نے جانے نہ دیا

Wednesday, 29 April 2015

مرتی ہوئی زمین کو بچانا پڑا مجھے

مرتی ہوئی زمیں کو بچانا پڑا مجھے
بادل کی طرح دشت پہ آنا پڑا مجھے​
وہ کر نہیں رہا تھا مِری بات کا یقین
پر یوں ہوا کہ مر کے دکھانا پڑا مجھے​
بھولے سے مِری سمت کوئی دیکھتا نہ تھا
چہرے پہ اک زخم لگانا پڑا مجھے​

اک شخص پاس رہ کے بھی سمجھا نہیں مجھے

اِک شخص پاس رہ کے بھی سمجھا نہیں مجھے
اس بات کا ملال ہے، شِکوہ نہیں مجھے
میں اس کو بے وفائی کا الزام کیسے دوں
اس نے تو ابتدا سے ہی چاہا نہیں مجھے
کیا كيا امیدیں باندھ کر آیا تھا سامنے
اس نے تو آنکھ بھر کے بھی دیکھا نہیں مجھے