کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے
تِرے تصور میں ہم نے کر لی کتاب آگے
وہ بعد مدت ملا تو رونے کی آرزو میں
نکل کے آنکھوں سے گر پڑے چند خواب آگے
دل و نظر میں ہی اپنے خیمے لگا لیے ہیں
ہمیں خبر ہے کہ راستہ ہے خراب آگے
کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے
تِرے تصور میں ہم نے کر لی کتاب آگے
وہ بعد مدت ملا تو رونے کی آرزو میں
نکل کے آنکھوں سے گر پڑے چند خواب آگے
دل و نظر میں ہی اپنے خیمے لگا لیے ہیں
ہمیں خبر ہے کہ راستہ ہے خراب آگے
تم وہ پہلی لڑکی ہو
تم وہ پہلی لڑکی ہو
جس کو دیکھ کے
میری آنکھیں خوابوں سے بھر جاتی ہیں
پیار کی نیلی کرنیں
دل کے کمرے میں در آتی ہیں