چوم کے ماتھا مِرا روز جگائے کوئی
اٹھ کے دیکھوں تو نظر بھی نہیں آئے کوئی
پاؤں اٹھتے ہی چلے جاتے ہیں جنگل کی طرف
مجھ کو مانوس سی آواز بلائے کوئی
لوگ آتے ہیں ٹھہرتے ہیں چلے جاتے ہیں
بحث و تکرار مناسب نہیں خود سے ہر وقت
مجھ کواس بات کا احساس دلائے کوئی
اپنی نظروں سے کسی روز مجھے دیر تلک
کس طرح میں نظر آتا ہوں دکھائے کوئی
ہر قدم پر مجھے لگتا ہے کہ گر جاؤں گا
حوصلہ میرا لگاتار بڑھائے کوئی
ایسے حالات میں کیا کرنا ہے میں جانتا ہوں
مجھ کو جینے کا سلیقہ نہ سکھائے کوئی
چاند کو کھڑکی کے اس پار میں کب تک دیکھوں
میرے کمرے میں دِیا آ کے جلائے کوئی
خود سے میں روٹھ گیا تھا مگر اب چاہتا ہوں
کسی دن مجھ سے مِری صلح کرائے کوئی
مجھ میں اہرام بھی ہیں اور خزانے بھی حسن
دھوپ کی رتھ پہ کسی روز تو آئے کوئی
حسن عباسی
No comments:
Post a Comment