سرور و رقص و مستی میں نہیں ہوں
مکمل گھر گھرہستی میں نہیں ہوں
وہی صدیوں پرانی عام عورت
انوکھا رازِ ہستی، میں نہیں ہوں
ہے دل کی آرزو صحرا نوردی
کہیں اک کھیت میرا منتظر ہے
سو دریا پر برستی، میں نہیں ہوں
میرے ان قہقہوں کا راز سمجھو
بسا اوقات ہنستی، میں نہیں ہوں
خدا نے بخش دی وہ بے نیازی
کسی کو بھی ترستی، میں نہیں ہوں
تیرا فرداؔ سے ملنا معرفت ہے
بلندی پر ہوں، پستی میں نہیں ہوں
صائمہ آفتاب
No comments:
Post a Comment