کسی کی ریشہ دوانی پہ وار دی گئی ہوں
یہاں میں تخت نشیں تھی، اتار دی گئی ہوں
بس اک خیال کو تجسیم کر لیا میں نے
اسی سبب سے تو کافر قرار دی گئی ہوں
کلیجہ چیر کے نکلا تھا دن جدائی کا
غمِ جہان سے چھپ کر پناہ لی جس میں
اس عافیت کی حویلی میں مار دی گئی ہوں
تُو دیکھ لے تو پریشان ہو کے رہ جاۓ
تِرے فراق میں یکسر نکھار دی گئی ہوں
ذرا سنبھل کے سخی مجھ سے استفادہ کر
بہت قلیل رقم ہوں،. ادھار دی گئی ہوں
انا کی بھینٹ چڑھا دے مگر یہ دھیان رہے
میں زندگی ہوں، فقط ایک بار دی گئی ہوں
صائمہ آفتاب
No comments:
Post a Comment