زرد رُت کی ہوا
جانے کہہ گئی ہے کیا
پتوں سے یہ ہوا
کہ ڈر کے مارے
زرد ہیں سارے
محمد جمیل اختر
زرد رُت کی ہوا
جانے کہہ گئی ہے کیا
پتوں سے یہ ہوا
کہ ڈر کے مارے
زرد ہیں سارے
محمد جمیل اختر
زخم ہمارے وہ سبھی دل کے
رفتہ رفتہ بھر گئے آخر
عشق میں جاں دینے والے
وقت پڑنے پہ مُکر گئے آخر
تمہارے دل میں اُترتے اُترتے
تمہارے دل سے اُتر گئے آخر
آئینہ
اداس آنکھیں، بے قرار آنکھیں
آئینہ بھلا کیسے دِکھائے
ان میں چُھپے
دُکھ، درد، افلاس کو
ان میں بسی
بُھوک کو، پیاس کو
فاصلہ
ایک منٹ سے دوسرے منٹ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟
اور میں تمہیں بتا دوں، ساٹھ سیکنڈ نہیں ہے
اور نہ ہی ایک گھنٹے سے دوسرے گھنٹے کا فاصلہ ساٹھ منٹ
تم جو سمجھتے ہو ایک ہفتے سے دوسرے ہفتے کا فاصلہ سات دن
سب غلط ہے
نہیں ہیں سال میں تین سو پینسٹھ دن
ہر مال ہر چیز
ایک تپتی ہوئی دوپہر میں
ایک دیوار کے سائے
ایک اداس، پریشان آدمی
تھوڑی تھوڑی دیر بعد پکارے
ہر مال ہر چیز
دس روپے میں