ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے*
موجوں کا عذاب اب تک
سوہنی تِرے لیکھوں پر
روتا ہے چناب اب تک
نثار ترابی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے*
موجوں کا عذاب اب تک
سوہنی تِرے لیکھوں پر
روتا ہے چناب اب تک
نثار ترابی
بدل بدل کے تِری بے رخی نے دیکھا ہے
یہ حادثہ بھی مِری بے بسی نے دیکھا ہے
مجھے خبر ہے کہ ظلمت ٹھہر نہیں سکتی
مجھے پتا ہے اسے روشنی نے دیکھا ہے
جو پورے چاند سے بڑھ کر حسین ہے یارو
وہ اک ستارہ ہے جس کو سبھی نے دیکھا ہے
زیست کی آگہی کا حاصل ہے
درد ہی شاعری کا حاصل ہے
ہے خِرد بھی خِرد کے نرغے میں
عشق خود گُمرہی کا حاصل ہے
زندگی کا ثبات ہے اس میں
یہ جو آنسو ہنسی کا حاصل ہے
زندگی کارواں کا حصہ ہے
ہجر کی داستاں کا حصہ ہے
شکل بھی تو ہے عکس کی باندی
نقش بھی تو نشاں کا حصہ ہے
اپنا اپنا مقام ہوتا ہے
ذرہ ذرہ جہاں کا حصہ ہے
نظر اٹھی ہے جدھر بھی ادھر تماشا ہے
بشر کے واسطے جیسے بشر تماشا ہے
زمیں ٹھہرتی نہیں اپنے پاؤں کے نیچے
پڑاؤ اپنا ہے جس میں وہ گھر تماشا ہے
یہاں قیام کرے گا نہ مستقل کوئی
ذرا سی دیر رکے گا اگر تماشا ہے
سفر میں اپنے حصے کی مسافت یاد رہتی ہے
کہیں آباد ہونے پر بھی ہجرت یاد رہتی ہے
کسی صحرا کو پیاسا چھوڑ جاتا ہے کبھی دریا
کبھی پیاسے کو دریا کی سخاوت یاد رہتی ہے
یہ سچ ہے پیار پہلا ہی بسا رہتا ہے سانسوں میں
یہ سچ ہے، عمر بھر پہلی محبت یاد رہتی ہے
ابر صحرائے جاں تلاش کرے
پیاس اپنا جہاں تلاش کرے
ہر عقیدت کی ایک منزل ہے
ہر جبیں آستاں تلاش کرے
اپنے محور پہ رہ نہیں سکتی
جو زمیں آسماں تلاش کرے