Showing posts with label نثار ترابی. Show all posts
Showing posts with label نثار ترابی. Show all posts

Wednesday, 7 February 2024

سوہنی ترے لیکھوں پر روتا ہے چناب اب تک

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے*


موجوں کا عذاب اب تک

سوہنی تِرے لیکھوں پر

روتا ہے چناب اب تک


نثار ترابی 

Thursday, 1 April 2021

بدل بدل کے تری بے رخی نے دیکھا ہے

 بدل بدل کے تِری بے رخی نے دیکھا ہے 

یہ حادثہ بھی مِری بے بسی نے دیکھا ہے

مجھے خبر ہے کہ ظلمت ٹھہر نہیں سکتی

مجھے پتا ہے اسے روشنی نے دیکھا ہے

جو پورے چاند سے بڑھ کر حسین ہے یارو 

وہ اک ستارہ ہے جس کو سبھی نے دیکھا ہے 

Thursday, 18 March 2021

زیست کی آگہی کا حاصل ہے

 زیست کی آگہی کا حاصل ہے

درد ہی شاعری کا حاصل ہے

ہے خِرد بھی خِرد کے نرغے میں

عشق خود گُمرہی کا حاصل ہے

زندگی کا ثبات ہے اس میں

یہ جو آنسو ہنسی کا حاصل ہے

Wednesday, 17 March 2021

زندگی کارواں کا حصہ ہے

 زندگی کارواں کا حصہ ہے

ہجر کی داستاں کا حصہ ہے

شکل بھی تو ہے عکس کی باندی

نقش بھی تو نشاں کا حصہ ہے

اپنا اپنا مقام ہوتا ہے

ذرہ ذرہ جہاں کا حصہ ہے

Monday, 15 March 2021

نظر اٹھی ہے جدھر بھی ادھر تماشا ہے

 نظر اٹھی ہے جدھر بھی ادھر تماشا ہے

بشر کے واسطے جیسے بشر تماشا ہے

زمیں ٹھہرتی نہیں اپنے پاؤں کے نیچے

پڑاؤ اپنا ہے جس میں وہ گھر تماشا ہے

یہاں قیام کرے گا نہ مستقل کوئی

ذرا سی دیر رکے گا اگر تماشا ہے

Sunday, 14 March 2021

سفر میں اپنے حصے کی مسافت یاد رہتی ہے

 سفر میں اپنے حصے کی مسافت یاد رہتی ہے

کہیں آباد ہونے پر بھی ہجرت یاد رہتی ہے

کسی صحرا کو پیاسا چھوڑ جاتا ہے کبھی دریا

کبھی پیاسے کو دریا کی سخاوت یاد رہتی ہے

یہ سچ ہے پیار پہلا ہی بسا رہتا ہے سانسوں میں

یہ سچ ہے، عمر بھر پہلی محبت یاد رہتی ہے

Saturday, 13 March 2021

ابر صحرائے جاں تلاش کرے

 ابر صحرائے جاں تلاش کرے

پیاس اپنا جہاں تلاش کرے

ہر عقیدت کی ایک منزل ہے

ہر جبیں آستاں تلاش کرے

اپنے محور پہ رہ نہیں سکتی

جو زمیں آسماں تلاش کرے