Monday, 15 March 2021

نظر اٹھی ہے جدھر بھی ادھر تماشا ہے

 نظر اٹھی ہے جدھر بھی ادھر تماشا ہے

بشر کے واسطے جیسے بشر تماشا ہے

زمیں ٹھہرتی نہیں اپنے پاؤں کے نیچے

پڑاؤ اپنا ہے جس میں وہ گھر تماشا ہے

یہاں قیام کرے گا نہ مستقل کوئی

ذرا سی دیر رکے گا اگر تماشا ہے

فگار ہو کے بھی رکھے گا آبروئے نمو

نگاہِ زر میں جو دستِ ہنر تماشا ہے

نہ بال و پر ہیں میسر نہ اِذنِ گویائی

تو اس کے معنی ہیں اپنی سحر تماشا ہے

ملا نثار ترابی سرائے حیرت سے

وہ آئینہ جسے اپنی نظر تماشا ہے


نثار ترابی

No comments:

Post a Comment