نظر اٹھی ہے جدھر بھی ادھر تماشا ہے
بشر کے واسطے جیسے بشر تماشا ہے
زمیں ٹھہرتی نہیں اپنے پاؤں کے نیچے
پڑاؤ اپنا ہے جس میں وہ گھر تماشا ہے
یہاں قیام کرے گا نہ مستقل کوئی
ذرا سی دیر رکے گا اگر تماشا ہے
فگار ہو کے بھی رکھے گا آبروئے نمو
نگاہِ زر میں جو دستِ ہنر تماشا ہے
نہ بال و پر ہیں میسر نہ اِذنِ گویائی
تو اس کے معنی ہیں اپنی سحر تماشا ہے
ملا نثار ترابی سرائے حیرت سے
وہ آئینہ جسے اپنی نظر تماشا ہے
نثار ترابی
No comments:
Post a Comment