کوئی بھی فیصلہ اٹل نہیں ہے
یعنی جو آج ہے وہ کل نہیں ہے
دے رہے ہو مجھے دلاسہ کیوں
اس کا نعم البدل، بدل نہیں ہے
میرے مسلک کا پوچھنے والو
ہاتھ پر میرے گنگا جل نہیں ہے
خودکشی اک فرار ہے خود سے
وقت سے پہلے تو اجل نہیں ہے
دل نہیں تیرے پاس؟ پوچھا جو
میں نے بھی کہہ دیا کہ چل، نہیں ہے
جی رہا ہوں میں زندگی کو مگر
اس میں خوشیوں کا ایک پل نہیں ہے
عشق سب بل نکال دیتا ہے
اس لیے مجھ میں کوئی بل نہیں ہے
یہ مِرے اشک ہیں یہ شعر نہیں
یہ مِرا دکھ ہے یہ غزل نہیں ہے
جن میں تم گھر گئے ہو سیف ریاض
ان مسائل کا کوئی حل نہیں ہے
سیف ریاض
No comments:
Post a Comment