Monday, 15 March 2021

کوئی بھی فیصلہ اٹل نہیں ہے

 کوئی بھی فیصلہ اٹل نہیں ہے

یعنی جو آج ہے وہ کل نہیں ہے

دے رہے ہو مجھے دلاسہ کیوں

اس کا نعم البدل، بدل نہیں ہے

میرے مسلک کا پوچھنے والو

ہاتھ پر میرے گنگا جل نہیں ہے

خودکشی اک فرار ہے خود سے

وقت سے پہلے تو اجل نہیں ہے

دل نہیں تیرے پاس؟ پوچھا جو

میں نے بھی کہہ دیا کہ چل، نہیں ہے

جی رہا ہوں میں زندگی کو مگر

اس میں خوشیوں کا ایک پل نہیں ہے

عشق سب بل نکال دیتا ہے

اس لیے مجھ میں کوئی بل نہیں ہے

یہ مِرے اشک ہیں یہ شعر نہیں

یہ مِرا دکھ ہے یہ غزل نہیں ہے

جن میں تم گھر گئے ہو سیف ریاض

ان مسائل کا کوئی حل نہیں ہے


سیف ریاض

No comments:

Post a Comment