Showing posts with label شہلا نقوی. Show all posts
Showing posts with label شہلا نقوی. Show all posts

Monday, 15 November 2021

ہم نے اس کی عطا کو اوڑھ لیا

 ہم نے اُس کی عطا کو اوڑھ لیا

اپنی ماں کی دعا کو اوڑھ لیا

روکتے رہ گئے سبھی تم کو

پھیر کر منہ قضا نے اوڑھ لیا

دن کی تلچھٹ کو پی کے سورج نے

منہ پہ کالی ردا کو اوڑھ لیا

Saturday, 13 November 2021

پیار کے ریشم لچھوں کو خود ہی الجھاتی ہوں

 ریشم جال


پیار کے ریشم لچھوں کو خود ہی الجھاتی ہوں

پہروں بیٹھ دھنک رنگوں کو پھر سلجھاتی ہوں

میری چاہت نے کاتے ہیں ریشم کے یہ سار

ان میں الجھ جانے سے میں پھر کیوں گھبراتی ہوں

اپنے خول میں ریشم کا کیڑا بھی خوش تو نہیں

میں بھی تتلی بن کر موقع پا اڑ جاتی ہوں

Wednesday, 10 November 2021

منزل کو نہ پانے کا افسوس رہا

 منزل کو نا پانے کا افسوس رہا

رستے کے کھو جانے کا افسوس رہا

گلیوں گلیوں گھومے تھے جس کی خاطر

اس گھر کے مل جانے کا افسوس رہا

وہ فصلیں جو کٹ کر بھوکوں میں نہ بٹیں

ان کے دانے دانے کا افسوس رہا

Monday, 8 November 2021

خود کلامی کیسی آباد ہے یہ تنہائی

 خود کلامی


کیسی آباد ہے یہ تنہائی

کس قدر بولتا ہے سناٹا

رات تاریک بحر میں ناؤ

خود کلامی کی رو میں بہتی ہوئی

زیر لب گفتگو کی لہریں ہیں

Sunday, 7 November 2021

ٹاٹ کے اک پردے کے پیچھے

 نخل مریم


ٹاٹ کے اک پردے کے پیچھے

گھٹی ہوئی گلیوں کی فضا میں

ایک کشیدہ کرنے والی

گلکاری کی شائق لڑکی

کرتی ہے ایسے گُلباری

Wednesday, 28 April 2021

جئے جانے کے خواب میں زندہ

 جئے جانے کے خواب میں زندہ

اک مسلسل سراب میں زندہ

زندگی کے لیے ترستے لوگ

زندگی کے عذاب میں زندہ

ہاتھ آئی نہیں کوئی منزل

ہیں سفر کے سراب میں زندہ