ہم نے اُس کی عطا کو اوڑھ لیا
اپنی ماں کی دعا کو اوڑھ لیا
روکتے رہ گئے سبھی تم کو
پھیر کر منہ قضا نے اوڑھ لیا
دن کی تلچھٹ کو پی کے سورج نے
منہ پہ کالی ردا کو اوڑھ لیا
ہم نے اُس کی عطا کو اوڑھ لیا
اپنی ماں کی دعا کو اوڑھ لیا
روکتے رہ گئے سبھی تم کو
پھیر کر منہ قضا نے اوڑھ لیا
دن کی تلچھٹ کو پی کے سورج نے
منہ پہ کالی ردا کو اوڑھ لیا
ریشم جال
پیار کے ریشم لچھوں کو خود ہی الجھاتی ہوں
پہروں بیٹھ دھنک رنگوں کو پھر سلجھاتی ہوں
میری چاہت نے کاتے ہیں ریشم کے یہ سار
ان میں الجھ جانے سے میں پھر کیوں گھبراتی ہوں
اپنے خول میں ریشم کا کیڑا بھی خوش تو نہیں
میں بھی تتلی بن کر موقع پا اڑ جاتی ہوں
منزل کو نا پانے کا افسوس رہا
رستے کے کھو جانے کا افسوس رہا
گلیوں گلیوں گھومے تھے جس کی خاطر
اس گھر کے مل جانے کا افسوس رہا
وہ فصلیں جو کٹ کر بھوکوں میں نہ بٹیں
ان کے دانے دانے کا افسوس رہا
خود کلامی
کیسی آباد ہے یہ تنہائی
کس قدر بولتا ہے سناٹا
رات تاریک بحر میں ناؤ
خود کلامی کی رو میں بہتی ہوئی
زیر لب گفتگو کی لہریں ہیں
نخل مریم
ٹاٹ کے اک پردے کے پیچھے
گھٹی ہوئی گلیوں کی فضا میں
ایک کشیدہ کرنے والی
گلکاری کی شائق لڑکی
کرتی ہے ایسے گُلباری
جئے جانے کے خواب میں زندہ
اک مسلسل سراب میں زندہ
زندگی کے لیے ترستے لوگ
زندگی کے عذاب میں زندہ
ہاتھ آئی نہیں کوئی منزل
ہیں سفر کے سراب میں زندہ