نخل مریم
ٹاٹ کے اک پردے کے پیچھے
گھٹی ہوئی گلیوں کی فضا میں
ایک کشیدہ کرنے والی
گلکاری کی شائق لڑکی
کرتی ہے ایسے گُلباری
ململ ہو جیسے اک کیاری
حبس اور گرمی میں یہ مالن
بیل چڑھائے پھول لگائے
چکن کے ٹانکوں سے کھل جائیں
ڈھیر چنبیلی کے لگ جائیں
گجرے بیلے کے لہرائیں
لمس سے دوشیزہ ہاتھوں کے
یوں سرشار ہوا جاتا ہے
کپڑا صورتِ نخلِ مریم
پھلتا بار آور ہوتا ہے
اپنی آنکھ کی جوت سے اس نے
اپنے گھر کے دیپ جلائے
لیکن اس سے قبل کہ چاندی
اس کی چوٹی میں گُندھ جائے
اس کی تھکی ہوئی پلکوں کو
چُوم لے آ کر کوئی مسیحا
پوروں کے زخموں کو اک دن
اپنے لمس سے یکسر بھر دے
اس کے گل اندام بدن کو
پیار سے جب بانہوں میں سمیٹے
شہلا نقوی
No comments:
Post a Comment