Sunday, 7 November 2021

ٹاٹ کے اک پردے کے پیچھے

 نخل مریم


ٹاٹ کے اک پردے کے پیچھے

گھٹی ہوئی گلیوں کی فضا میں

ایک کشیدہ کرنے والی

گلکاری کی شائق لڑکی

کرتی ہے ایسے گُلباری

ململ ہو جیسے اک کیاری

حبس اور گرمی میں یہ مالن

بیل چڑھائے پھول لگائے

چکن کے ٹانکوں سے کھل جائیں

ڈھیر چنبیلی کے لگ جائیں

گجرے بیلے کے لہرائیں

لمس سے دوشیزہ ہاتھوں کے

یوں سرشار ہوا جاتا ہے

کپڑا صورتِ نخلِ مریم

پھلتا بار آور ہوتا ہے

اپنی آنکھ کی جوت سے اس نے

اپنے گھر کے دیپ جلائے

لیکن اس سے قبل کہ چاندی

اس کی چوٹی میں گُندھ جائے

اس کی تھکی ہوئی پلکوں کو

چُوم لے آ کر کوئی مسیحا

پوروں کے زخموں کو اک دن

اپنے لمس سے یکسر بھر دے

اس کے گل اندام بدن کو

پیار سے جب بانہوں میں سمیٹے


شہلا نقوی

No comments:

Post a Comment