اداس تم ہی نہیں ہو حیات ہے شاید
تھکی تھکی سی کہیں کائنات ہے شاید
رکی رکی سی یہ سانسیں اور جھکی سی نگاہ
اس اک بات میں اک اور بات ہے شاید
میں تم کو جیت رہا ہوں تمہیں پتہ ہی نہیں
یہ اور بات کہ میری ہی مات ہے شاید
اداس تم ہی نہیں ہو حیات ہے شاید
تھکی تھکی سی کہیں کائنات ہے شاید
رکی رکی سی یہ سانسیں اور جھکی سی نگاہ
اس اک بات میں اک اور بات ہے شاید
میں تم کو جیت رہا ہوں تمہیں پتہ ہی نہیں
یہ اور بات کہ میری ہی مات ہے شاید
جسم کی قید میں ہوں کشمکش ذات میں ہوں
ایک سکے کی طرح کاسۂ خیرات میں ہوں
تم سے ملنے کے لیے تم سے جدا ہوتا ہوں
کیا کروں جانِ وفا! نرغۂ حالات میں ہوں
کل کا دن کیوں نہ رکھیں ترک تعلق کے لیے
آج کچھ میں بھی تمہاری طرح جذبات میں ہوں
دنیا یہ سہی عدو بہت ہے
میرے لیے ایک تو بہت ہے
آبادیٔ ہم زباں ہے لیکن
محتاجیٔ گفتگو بہت ہے
اک حاصل جستجو میں شاید
لا حاصل جستجو بہت ہے
وحشت کو ثنا چھپائے رکھنا
دستار و قبا سجائے رکھنا
دیوانے ہی تیرے جانتے ہیں
صحراؤں کو بھی بسائے رکھنا
آنکھوں کے ستارے، رُوپ کا چاند
یہ سارے دِیے جلائے رکھنا