Showing posts with label ثنا گورکھپوری. Show all posts
Showing posts with label ثنا گورکھپوری. Show all posts

Tuesday, 9 December 2025

اداس تم ہی نہیں ہو حیات ہے شاید

 اداس تم ہی نہیں ہو حیات ہے شاید

تھکی تھکی سی کہیں کائنات ہے شاید

رکی رکی سی یہ سانسیں اور جھکی سی نگاہ

اس اک بات میں اک اور بات ہے شاید

میں تم کو جیت رہا ہوں تمہیں پتہ ہی نہیں

یہ اور بات کہ میری ہی مات ہے شاید

Tuesday, 3 June 2025

جسم کی قید میں ہوں کشمکش ذات میں ہوں

 جسم کی قید میں ہوں کشمکش ذات میں ہوں

ایک سکے کی طرح کاسۂ خیرات میں ہوں

تم سے ملنے کے لیے تم سے جدا ہوتا ہوں

کیا کروں جانِ وفا! نرغۂ حالات میں ہوں

کل کا دن کیوں نہ رکھیں ترک تعلق کے لیے

آج کچھ میں بھی تمہاری طرح جذبات میں ہوں

Sunday, 1 December 2024

دنیا یہ سہی عدو بہت ہے

 دنیا یہ سہی عدو بہت ہے

میرے لیے ایک تو بہت ہے

آبادیٔ ہم زباں ہے لیکن

محتاجیٔ گفتگو بہت ہے

اک حاصل جستجو میں شاید

لا حاصل جستجو بہت ہے

Friday, 29 November 2024

وحشت کو ثنا چھپائے رکھنا

 وحشت کو ثنا چھپائے رکھنا

دستار و قبا سجائے رکھنا

دیوانے ہی تیرے جانتے ہیں

صحراؤں کو بھی بسائے رکھنا

آنکھوں کے ستارے، رُوپ کا چاند

یہ سارے دِیے جلائے رکھنا