Showing posts with label شہزاد تابش. Show all posts
Showing posts with label شہزاد تابش. Show all posts

Thursday, 17 February 2022

پھولوں کا ہے قصور نہ خاروں کی بات ہے

 پھولوں کا ہے قصور نہ خاروں کی بات ہے

یہ دل کی رہگزر پہ خساروں کی بات ہے

تُو ہے مکین روشنی تجھ کو بتائیں کیا

یہ تو شب مہیب کے ماروں کی بات ہے

آؤ کہ مل کے توڑیں شب ہجر کی فصیل

اس پار جگمگاتے ستاروں کی بات ہے

Wednesday, 2 February 2022

سبھی قاتل یہاں پر بستیاں مقتول سے خالی

 سبھی قاتل، یہاں پر بستیاں مقتول سے خالی

سرشتِ آدمیت کب ہوئی ہے بھول سے خالی

وہیں سے اہلِ دانش عقل کے گوہر اٹھاتے ہیں

جہاں پہ ہو مفصل گفتگو پر طول سے خالی

جو چلنا ہے منازل کی طرف تو گرد ہے لازم

وہ رستہ ہی نہیں ہوتا رہے جو دھول سے خالی

Tuesday, 25 May 2021

پیروں کے آبلوں کو یوں دھوکے دئیے گئے

 پیروں کے آبلوں کو یوں دھوکے دئیے گئے

منزل کی ہر نوید پہ رستے دئیے گئے

بھاؤ ہر ایک جنس کا اچھا تھا شہر میں

انسان پھر بھی مٹی سے سستے دئیے گئے

راہوں کے سب چراغ جلانے سے پیش تر

میرے جگر کے خون سے بھر کے دئیے گئے

Sunday, 23 May 2021

گہری ہے بہت رات ستارا ہے نہ جگنو

 گہری ہے بہت رات ستارا ہے نہ جگنو

منزل کی طرف کوئی اشارا ہے نہ جگنو

ساحل کی طرف آؤں تو کیا سوچ کے آؤں

میرے لیے اس پار سہارا ہے نہ جگنو

گھبرا کے اندھیروں سے کبھی میری طلب نے

نہ چاند نہ سورج کو پکارا ہے نہ جگنو

Thursday, 7 January 2021

وقت بے وقت کا الہام بھی ہو سکتا ہے

 وقت بے وقت کا الہام بھی ہو سکتا ہے

اور مبہم سا یہ پیغام بھی ہو سکتا ہے

یوں نہ کر اس پہ حقارت کی نظر جانِ چمن

خاک زادہ یہاں گلفام بھی ہو سکتا ہے

موت کے ہاتھ سے تو جس کو چھُڑا لایا ہے

تیرا قاتل وہ سرِ عام بھی ہو سکتا ہے

Wednesday, 6 January 2021

مر کے آیا نہیں زوال مجھے

 مر کے آیا نہیں زوال مجھے

کر گیا وقت بے مثال مجھے

درد احسان کر گیا مجھ پر

دے گیا ضبط بھی کمال مجھے

کاٹ دی عمر ہجر میں تیرے

کل کے وعدوں پہ یوں نا ٹال مجھے

Tuesday, 5 January 2021

شہر بدن میں پھیلتے خدشات کے عوض

 شہرِ بدن میں پھیلتے خدشات کے عوض

بیچا نہیں ہے بھوک کو خیرات کے عوض

جھوٹی ادا کا ہر کوئی ہوتا نہیں اسیر

دل بِک سکا نہ نقد اشارات کے عوض

بادل کی دوستی بڑی مہنگی پڑی مجھے

گھر کو بہا کے لے گیا برسات کے عوض