پھولوں کا ہے قصور نہ خاروں کی بات ہے
یہ دل کی رہگزر پہ خساروں کی بات ہے
تُو ہے مکین روشنی تجھ کو بتائیں کیا
یہ تو شب مہیب کے ماروں کی بات ہے
آؤ کہ مل کے توڑیں شب ہجر کی فصیل
اس پار جگمگاتے ستاروں کی بات ہے
پھولوں کا ہے قصور نہ خاروں کی بات ہے
یہ دل کی رہگزر پہ خساروں کی بات ہے
تُو ہے مکین روشنی تجھ کو بتائیں کیا
یہ تو شب مہیب کے ماروں کی بات ہے
آؤ کہ مل کے توڑیں شب ہجر کی فصیل
اس پار جگمگاتے ستاروں کی بات ہے
سبھی قاتل، یہاں پر بستیاں مقتول سے خالی
سرشتِ آدمیت کب ہوئی ہے بھول سے خالی
وہیں سے اہلِ دانش عقل کے گوہر اٹھاتے ہیں
جہاں پہ ہو مفصل گفتگو پر طول سے خالی
جو چلنا ہے منازل کی طرف تو گرد ہے لازم
وہ رستہ ہی نہیں ہوتا رہے جو دھول سے خالی
پیروں کے آبلوں کو یوں دھوکے دئیے گئے
منزل کی ہر نوید پہ رستے دئیے گئے
بھاؤ ہر ایک جنس کا اچھا تھا شہر میں
انسان پھر بھی مٹی سے سستے دئیے گئے
راہوں کے سب چراغ جلانے سے پیش تر
میرے جگر کے خون سے بھر کے دئیے گئے
گہری ہے بہت رات ستارا ہے نہ جگنو
منزل کی طرف کوئی اشارا ہے نہ جگنو
ساحل کی طرف آؤں تو کیا سوچ کے آؤں
میرے لیے اس پار سہارا ہے نہ جگنو
گھبرا کے اندھیروں سے کبھی میری طلب نے
نہ چاند نہ سورج کو پکارا ہے نہ جگنو
وقت بے وقت کا الہام بھی ہو سکتا ہے
اور مبہم سا یہ پیغام بھی ہو سکتا ہے
یوں نہ کر اس پہ حقارت کی نظر جانِ چمن
خاک زادہ یہاں گلفام بھی ہو سکتا ہے
موت کے ہاتھ سے تو جس کو چھُڑا لایا ہے
تیرا قاتل وہ سرِ عام بھی ہو سکتا ہے
مر کے آیا نہیں زوال مجھے
کر گیا وقت بے مثال مجھے
درد احسان کر گیا مجھ پر
دے گیا ضبط بھی کمال مجھے
کاٹ دی عمر ہجر میں تیرے
کل کے وعدوں پہ یوں نا ٹال مجھے
شہرِ بدن میں پھیلتے خدشات کے عوض
بیچا نہیں ہے بھوک کو خیرات کے عوض
جھوٹی ادا کا ہر کوئی ہوتا نہیں اسیر
دل بِک سکا نہ نقد اشارات کے عوض
بادل کی دوستی بڑی مہنگی پڑی مجھے
گھر کو بہا کے لے گیا برسات کے عوض